کتاب: دینی تعلیم و تربیت کے اصول و آداب - صفحہ 104
میرے والد ماجد نے ایک خاص نصیحت کی کہ اپنے اساتذہ کی ہمیشہ خدمت کرتے رہو،یہی خدمت تمھارے لیے ترقی کا ضامن بنے گی،چنانچہ امام نووی رحمہ اللہ ہمیشہ اپنے استاد کی خدمت میں رہتے۔استاد کے سونے اور آرام کرنے کے لیے بستر بچھاتے اور صبح بستر اٹھا کر کمرے میں لے جاتے،پھر چارپائی لے جا کر رکھتے،اس طرح کی محنت اور اساتذہ کی خدمت کرنے والے طلبہ کا شمار آگے چل کر ائمہ دین میں ہوا۔[1] میری طالب علمی اور اساتذہ کی خدمت گزاری خدا کا شکر ہے کہ میں نے بھی دورِ طالب علمی میں اپنے اساتذہ کی خدمت کی ہے۔میرے پہلے استاد جہاں میں فارسی،عربی کی ابتدائی کتابیں،میزان منشعب اور ابواب الصرف پڑھ رہا تھا،میرے استاد مولانا خلیل احمد صاحب مارنے پیٹنے اور چھڑی مارنے میں کچھ بھی تامل نہیں کرتے تھے،جو اس دور کے طلبہ کے لیے بہت ہمت شکن ہے،لیکن میں ان کی خدمت میں روزانہ دوپہر کے وقت چکنی مٹی کوٹ کر پانی میں گوندھ کر ان کے دونوں پاؤں پر اس کی لیپ چڑھاتا تھا اور پاؤں دباتا تھا۔میرا یہ بھی معمول تھا کہ مولانا خلیل احمد کی بچی آمنہ(سلمہا) کو عصر کے بعد روزانہ اپنی گردن پر بٹھاتا اور بڑھنی بازار کے آخری حصے پر ننکؤ حلوائی کی دکان پر اتارتا،وہاں مولانا کچھ دیر بیٹھتے،نعت وغیرہ پڑھتے،پھر جب واپس ہوتے تو میں آمنہ(سلمہا) کو اسی طرح اپنی گردن پر اٹھا کر لاتا۔یہ معاملہ اس وقت کا ہے جب کہ میرے والد صاحب سات آٹھ [1] تہذیب الأسماء للنووی رحمہ اللّٰہ ج ۱۔