کتاب: دین کے تین اہم اصول مع مختصر مسائل نماز - صفحہ 48
قُرْاٰنَ الْفَجْرِکَانَ مَشْھُوْدًا} (بنی اسرائیل:۷۸) ’’نماز قائم کرو زوالِ آفتاب سے لے کر رات کے اندھیرے تک اور فجر کے قرآن کا بھی التزام کرو ‘ فجر کا قرآن مشہود ہوتا ہے ۔‘‘ (اس میں شب و روز کے فرشتے حاضر و گواہ ہوتے ہیں ) آٹھویں شرط استقبال قبلہ شرائط ِقبولیتِ نماز میں سے ہی نمازی کا قبلہ رو ہونا بھی ایک شرط ہے ‘ جس کی دلیل یہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے : { قَدْنَرٰی تَقَلُّبَ وَجْھِکَ فِی السَّمَآئِ فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضٰھَا فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِالْحَرَامِ وَحَیْثُ مَاکُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ شَطْرَہ‘} (البقرۃ : ۱۴۴) ’’ اے نبی(صلی اللہ علیہ وسلم ) !یہ آپ کے منہ کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا ہم دیکھ رہے ہیں،لو ہم اُسی قبلے کی طرف آپ کو پھیر دیتے ہیں جسے آپ پسند کرتے ہیں مسجد حرام کی طرف رخ پھیر لو ۔ اب جہاں کہیں تم ہو، اسی کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرو ‘‘۔ نویں شرط نیّت نماز کی نیّت کرنا بھی اس کی صحت و قبولیت کی شرائط میں سے ہے۔ اور نیت کا مقام دل ہے اور زبان کے ساتھ نیت کے الفاظ (چار رکعت نماز ظہر وغیرہ ) کا ادا کرنا بدعت و ناجائز ہے ۔نیت کے شرط ہونے کی دلیل یہ ارشادِنبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے : ((اِنَّمَا الْاَ عْمَالُ بِالنِّیَّاتِ وَاِنَّمَا لِکُلِّ امْرِے مَانَویٰ )) [1] [1] بخاری،مسلم واصحاب السنن وغیرھم