کتاب: دین کے تین اہم اصول مع مختصر مسائل نماز - صفحہ 42
دو سری شرط عقل قبو لیت ِنماز کی دو سری شرط نمازی کا باہوش و حواس اور عقلمند ہونا ہے، جس کا متضاد جنون و دیوانگی ہے، اور دیوانہ و پاگل اس وقت تک مر فوع القلم (غیر مکلف ) ہے جب تک کہ اسے جنون و پاگل پن کے مرض سے افاقہ نہ ہو جائے ۔اور اس کی دلیل یہ حد یث ِنبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے : ((رُفِعَ ا لْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَۃٍ ا لنَّائِمِ حَتَّی یَسْتَیْقِظَ وَا لْمَجْنُوْنِ حَتَّی یَفِیْقَ وَا لصَّبِیِّ حَتَّی یَبْلُغَ )) [1] ’’تین آدمیوں (کے اعمال لکھنے ) سے قلم اٹھالی گئی ہے سو یا ہوا آدمی جب تک کے وہ بیدار نہ ہو جا ئے ۔ دیوانہ جب تک کہ وہ شفا یاب نہ ہو جائے ۔ کم سن بچہ جب تک کہ وہ بالغ نہ ہو جا ئے ۔ ‘‘ تیسری شرط تمیز یا سنِّ شعور صحت و قبولیت ِنماز کی تیسری شرط نمازی کا سنِّ شعور یا عمرِ تمیز کو پہنچا ہوا ہونا ہے اور تمیز کا متضاد کم سنی و بچپنا ہے جسکی حد سات سال تک کی عمر ہے۔ اس کے بعد اسے نماز کا حکم دیا جائیگا۔ جس کی دلیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ِگرامی ہے: (( مُرُوْااَبْنَائَکُمْ بِا لصَّلوٰۃِ لِسَبْعٍ وَاضْرِبُوْھُمْ عَلَیْھَا لِعَشْرٍ وَفَرِّقُوْا بَیْنَھُمْ فِی الْمَضَاجِعِ )) [2] ’’اپنے بچوں کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو اور دس سال کی عمر میں بھی اگر وہ نماز نہ پڑھیں تو انہیں مارکر نماز پڑھاؤ ۔ اور اس عمر کے بعد [1] مسند احمد ، ابو داؤد ،نسائی ابن ما جہ ، مستدرک حاکم ۱/ ۲۵۸وصحّحہ‘و وافقہ الذھبی علی تصحیحہٖ [2] مسند احمد‘ ابودا ؤد‘ صححہ الحاکم فی المستد رک و وافقہ الذھبی۱/۲۵۸