کتاب: دعوت دین کس چیز کی طرف دی جائے - صفحہ 42
حَقٍّ۔‘‘[1]
’’بیشک سنگین ترین سود[2] میں سے کسی مسلمان کی عزت کے بارے میں ناحق زبان درازی کرنا ہے۔‘‘
و:قرض ادا کیے بغیر مرنا:
حضرات ائمہ نسائی،حاکم اور بغوی نے حضرت محمد بن جحش رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے،کہ انہوں نے بیان کیا:
’’ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر آسمان کی طرف اُٹھایا،پھر اپنی ہتھیلی کو اپنی پیشانی پر رکھا،پھر ارشاد فرمایا:
’’سُبْحَانَ اللّٰہِ!مَا ذَا نَزَلَ مِنَ التَّشْدِیْدِ!‘‘
’’اللہ تعالیٰ ہر عیب سے پاک ہیں!کس قدر سختی نازل ہوئی ہے۔‘‘
ہم چپ رہے اور خوف زدہ ہو گئے۔
دوسرے روز میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا:’’یَا رَسُوْلَ اللّٰہ!مَا ھٰذَا التَشْدِیْدِ الَّذِيْ نَزَلَ؟‘‘
’’یا رسول اللہ!۔صلی اللہ علیہ وسلم۔نازل ہونے والی یہ سختی کیا تھی؟
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’ وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِیَدِہٖ!لَوْ أَنَّ رَجُلًا قُتِلَ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ،ثُمَّ
[1] سنن أبي داود،کتاب الأدب،باب في الغیبۃ،رقم الحدیث ۴۸۶۶،۱۳؍۱۵۲۔شیخ البانی نے اس کو [صحیح] قرار دیا ہے۔(ملاحظہ ہو:صحیح سنن أبي داود ۳؍۹۲۳؛ وصحیح الترغیب والترھیب ۳؍۷۷)۔
[2] یعنی عذاب میں سے زیادہ اور حرمت میں سب سے شدید۔(ملاحظہ ہو:عون المعبود ۱۳؍۱۵۲)