کتاب: دعوت دین کہاں دی جائے؟ - صفحہ 186
میں محصور نہیں، بلکہ ہر مناسب جگہ میں ہے۔
۲: تمام مسلمان حضرات و خواتین سے، کہ وہ تاحدِ استطاعت ہر مناسب جگہ میں دعوتِ حق دیں۔
۳: اسلامی جامعات اور مدارس اسلامیہ سے، کہ وہ اپنے تعلیمی نصاب میں [دعوتِ دین] کو بطور مضمون(Su رضی اللہ عنہ j رضی اللہ عنہم رضی اللہ عنہا t)شامل کریں، تاکہ ان میں تعلیم حاصل کرنے والوں کے لیے اس کی اہمیت کو سمجھنے، اس کے بارے میں پھیلائی گئی غلط فہمیوں کی حقیقت کے ادراک اور دعوت کے موثر طریقوں سے آگاہی کا موقع میسر آسکے۔
وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَالَی عَلٰی نَبِیِّنَا مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِہِ وَأَصْحَابِہِ وَأَتْبَاعِہِ وَبَارَکَ َوَسَلَّمَ وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔
****