کتاب: دعوت دین کہاں دی جائے؟ - صفحہ 184
رہے۔ ستر انصاری مسلمانوں سے یہیں سمع و طاعت اور دیگر دینی امور کی پابندی کرنے کی بیعت لی۔ میدانِ عرفات میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیغامِ الٰہی پہنچانے کے لیے جدوجہد کرتے۔ ۱۰:حجۃ الوداع میں متعدد مقامات پر: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر وادی عُرَنہ میں یوم عرفہ کو، منیٰ میں دس اور بارہ ذوالحجہ کو اور مدینہ طیبہ واپس آتے ہوئے غدیر خُم کے مقامات پر خطبات ارشاد فرمائے۔ علاوہ ازیں عرفات و مزدلفہ کے درمیان سواری پر جاتے ہوئے حضراتِ صحابہ کو نصیحت فرمائی۔ ۱۱:راستے میں: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ کی بعض گلیوں میں سے گزرتے ہوئے ابوجہل کو توحید و رسالت کی دعوت دی۔ راستے میں سے گزرتے ہوئے ایک دفعہ ابوذر رضی اللہ عنہ کے لیے انفاق فی سبیل اللہ کی اہمیت کو واضح کیا، دوسری مرتبہ گم راہ کرنے والے ائمہ کے خطرے کی سنگینی سے آگاہ فرمایا، تیسری بار ناگہانی حالت میں مناسب طرزِ عمل کی نشاندہی فرمائی، معاذ رضی اللہ عنہ کو دینی امور کی تعلیم دی اور اپنے ہم رکاب شخص کو سواری کے ٹھوکر کھانے پر درست بات کہنے کی تلقین کی۔ ۱۲:سفر میں: اس کے متعلقہ شواہد میں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کدید یا قدید کے مقام پر وعظ ونصیحت فرمانا، ایک صحابی کو قرآن کریم کی افضل سورت سے آگاہ کرنا، صحابہ کو شہادتِ توحید کے ثمرات بتلانا، وضو میں کوتاہی پر بعض صحابہ کا احتساب کرنا، آئندہ فتنوں اور طاعتِ امام کے بارے میں خطبہ ارشاد فرمانا، صحابہ کو ایک دوسرے سے مل کر پڑاؤ ڈالنے کا حکم دینا اور دعوت کی خاطر طائف کا سفر کرنا شامل ہیں۔