کتاب: دعوت دین کہاں دی جائے؟ - صفحہ 183
اسلام کی ترغیب دی اور بیمار یہودی بچے کے گھر جاکر اسے دائرہ اسلام میں داخل ہونے کی تلقین کی۔ حضرت مصعب رضی اللہ عنہ نے مدینہ پہنچ کر انصار کے گھر گھر جاکر دعوتِ اسلام دی۔تاتاری اور بت پرست ترکوں کی مسلمان بیویوں کی گھروں میں دعوت کی وجہ سے ان کے شوہر حضرات مشرف بہ اسلام ہوئے۔
۶:لوگوں کی مجالس میں:
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قریش کی مجلس میں تشریف لے جاتے اور انہیں شرک سے باز آنے اور توحید و رسالت کی گواہی دینے کا حکم دیتے۔ مدینہ طیبہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں، بت پرستوں، یہودیوں اور منافقوں پر مشتمل مجلس میں پہنچ کر دعوت الی اللہ تعالیٰ کا فریضہ سر انجام دیا۔
۷:میلوں اور بازاروں میں:
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عرب کے میلوں اور لگائی جانے والی تجارتی منڈیوں سوق ذوالمجاز، سوق عکاظ اور سوقِ مجنہ میں دس سال تک دعوتِ حق دیتے رہے۔ مدینہ طیبہ پہنچ کر بھی اس سلسلہ کو جاری رکھا۔ یہودیوں کے [سوق قینقاع ] میں جاکر انہیں دعوت دی۔ مدینہ طیبہ کے بازار میں مسلمان تاجروں کو صدقہ کی تلقین کی۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی لوگوں کو بازار میں دعوتِ دین دی۔
۸:قریش کے ہاں آنے والے مدنی وفد کے پاس خود جانا:
مدینہ طیبہ سے بنو عبد الأشہل کا ایک وفد خزرج کے خلاف قریش کو حلیف بنانے کی غرض سے مکہ مکرمہ آیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کی آمد کی خبر سن کر خود ان کے پاس تشریف لے گئے اور انہیں دعوتِ توحید دی۔
۹:مکی دور میں موسم حج میں منیٰ و عرفات میں:
ہجرت سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں دعوتِ حق پہنچاتے