کتاب: دعوت دین کہاں دی جائے؟ - صفحہ 182
۲:ایوان اقتدار میں:
فرعون کے دربار میں موسیٰ و ہارون علیہما السلام نے، نجاشی کی شاہی مجلس میں جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے، ایرانی دربار میں سعد رضی اللہ عنہ کے ارسال کردہ وفد نے، مصری دربار میں عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ نے اور عسیفان کے بت پرست راجہ کے دربار میں مسلمان تاجروں نے دعوتِ حق دی۔
۳:جبل صفا پر:
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جبل صفا پر کھڑے ہوکر قریش کے مختلف قبیلوں کو پکار پکار کر جمع کیا اور انہیں توحید و رسالت کے اقرار کی دعوت دی۔
۴:یہودیوں کے عبادت خانے میں:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہودیوں کی عبادت گاہ میں تشریف لے گئے اور انہیں توحید و رسالت کی دعوت دی۔
۵:گھروں میں:
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوتِ دین کی خاطر بنوعبد المطلب کو اپنے ہاں کھانے پر جمع کیا، دارارقم کو مسلمانوں کی تعلیم و تربیت اور غیر مسلموں کو دعوتِ اسلام دینے کے لیے بطور مرکز استعمال فرمایا، قریب المرگ چچا کے ہاں جاکر انہیں دعوتِ توحید دی، ابوقحافہ کو دعوتِ اسلام دینے کی خاطر خود ان کے گھر جانے کی رغبت کا اظہار فرمایا، فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو ایک گھر میں جمع کی گئی خواتین کو پندونصیحت کے لیے روانہ فرمایا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود پہلے سے متعین کردہ ایک مکان میں عورتوں کو تنبیہ و تذکیر فرمائی، ایک انصاری خاتون کے گھر جاکر اسے بے صبری سے منع فرمایا، روزوں میں اعتدال کی تلقین کی غرض سے ابن عمرو رضی اللہ عنہما کے گھر تشریف لائے، بنو نجار کے بیمار شخص کے گھر جاکر اسے دعوتِ توحید دی، یہودیوں کے سربراہ کے گھر جاکر اسے قبولِ