کتاب: دعوت دین کہاں دی جائے؟ - صفحہ 180
’’عمر رضی اللہ عنہ منبر پر تشریف فرما ہوئے، جب اذان دینے والے خاموش ہوئے، تو وہ کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی ان کے شایانِ شان تعریف کی، پھر فرمایا:
امابعد بے شک میں آپ(لوگوں)سے ایسی بات کہنے لگا ہوں، جس کا کہنا میرے مقدر میں تھا… الحدیث
اس روایت سے یہ بات واضح ہے، کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف نے فاروق اعظم رضی اللہ عنہما کو خلیفہ کے چناؤ ایسے حساس معاملے کے بارے میں منیٰ میں کچھ نہ کہنے اور مدینہ طیبہ پہنچ کر گفتگو کرنے کا مشورہ دیا۔ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ان کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے اسی پر عمل کیا۔ فرضي اللّٰہ تعالیٰ عنہما وأرضا ہما۔
خلاصہ گفتگو یہ ہے، کہ مختلف مقامات پر دعوت دین کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے موقع ومحل کی مناسبت کو پیش نظر رکھا جائے۔
****