کتاب: دعوت دین کہاں دی جائے؟ - صفحہ 179
ہوں گے، مجھے خدشہ یہ ہے،کہ جب آپ کھڑے ہوکر بات کریں گے، تو اسے(یعنی بات کو)ہرلے اُڑنے والا لے اُڑے گا، وہ اسے نہ تو اچھی طرح سمجھ پائیں گے اور نہ ہی اس سے ٹھیک نتائج اخذ کریں گے۔ مدینہ(طیبہ)پہنچنے تک ٹھہر جائیے، کیونکہ وہ ہجرت اور سنت کا گھر ہے، وہاں آپ کا سابقہ سمجھ دار اور معزز لوگوں سے پڑے گا، آپ اطمینان سے اپنی بات کہہ سکیں گے، اہل علم آپ کی گفتگو اچھی طرح سمجھیں گے اور اس کی درست تطبیق کریں گے۔‘‘ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’اَمَا وَاللّٰہِ! ِانْ شَائَ اللّٰہُ لَأَقُوْمَنَّ بِذٰلِکَ اَوَّلَ مَقَامٍ أَقُوْمُہُ بِالْمَدِیْنَۃِ۔‘‘ ’’اچھا، واللہ! میں مدینہ(طیبہ)میں پہلا خطبہ اسی بارے میں دوں گا۔‘‘ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا: ’’فَقَدِمْنَا الْمَدِیْنَۃَ عَقِبَ ذِي الْحَجَۃِ۔ فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ الْجُمْعَۃِ عَجَّلْتُ الرَّوَاحَ حِیْنَ زاَغَتِ الشَّمْسُ۔‘‘ ’’ہم ذوالحجہ کے آخر میں مدینہ(طیبہ)آئے۔ جمعہ کے دن میں نے سورج کے ڈھلتے ہی مسجد کی طرف جانے میں جلدی کی۔‘‘ فَجَلَسَ عُمَرَ رضی اللّٰهُ عنہ عَلَی الْمِنْبَرِ، فَلَمَّا سَکَتَ الْمُؤَذِّنُوْنَ، قَامَ فَأَثْنٰی عَلَی اللّٰہِ بِمَا ہُوَ أہْلُہُ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّیْ قَائِلٌ لَکُمْ مَقَالَۃً، قَدْ قُدِّرَلِي اَنْ اَقُوْلَہَا… الحدیث[1]
[1] صحیح البخاری، کتاب الحدود، باب رجم الحبلی من الزنا إذا أحصنت، جزء من رقم الحدیث ۶۸۳۰ باختصار، ۱۲؍۱۴۴۔۱۴۵۔