کتاب: دعوت دین کہاں دی جائے؟ - صفحہ 178
منصوبہ بندی کے بغیر)ہوئی اور پوری ہوگئی(یعنی لوگوں نے اس پر اتفاق کرلیا)۔‘‘
پس(یہ سن کر)عمر رضی اللہ عنہ غصے میں آئے، پھر فرمایا:
إِنِيْ اِنْ شَائَ اللّٰہُ لَقَائِمٌ الْعَشیَّۃَ فِي النَّاسِ، فَمُحَذِّرُہُمْ ہٰؤُلَائَ الَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ یَغْصَبُوْنَہُمْ أُمُوْرَہُمْ۔‘‘
’’ بے شک میں آج شام ہی ان شاء اللہ لوگوں میں کھڑا ہو کر انہیں ایسے لوگوں سے محتاط رہنے کی تلقین کرنے والا ہوں،[1] جو کہ ان کے معاملات میں دست درازی کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے بیان کیا:’’ میں نے عرض کیا:
’’یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ! لَا تَفْعَلْ، فَإِنَّ الْمَوْسِمَ یَجْمَعُ رَعَاعَ النَّاسِ وَغَوْغَائَہُمْ، فَإِنَّہُمْ ہُمُ الَّذِیْنَ یَغْلِبُوْنَ عَلیٰ قُرْبِکَ حِیْنَ تَقُوْمُ فِي النَّاسِ۔ وَأَنَا أَخْشَی أَنْ تَقُوْمَ فَتَقُوْلَ مَقَالَۃً، یُطَیِّرُہَا عَنْکَ کُلُّ مُطَیِّر، وَأَنْ لَا یَعُوْہَا، وَأَنْ لَا یَضَعُوْہَا مَوَاضِعِہَا، فَأَمْہِلْ حَتَّی تَقْدَمَ الْمَدِینَۃَ فَإِنَّہَا دَارُ الْہِجْرَۃِ وَالسُّنَّۃِ، فَتَخْلُصَ بِأَہْلِ الْفِقْہِ وَأَشْرَافِ النَّاسِ، فَتَقُوْلَ مَا قُلْتُ مُتِمَکِّمَنًا، فَیَعِيْ اَہْلُ الْعِلْمِ مَقَالَتَکَ، وَیَضَعُوْنَہَا مَوَاضِعَہَا۔‘‘
’’اے امیرالمومنین! ایسے نہ کیجئے، کیونکہ موسم(حج)میں تو بے علم اور شور وغوغا کرنے والے لوگ(بھی)جمع ہوئے ہیں، جب آپ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوں گے، تو یہی لوگ آپ کے قریب ہونے میں کامیاب
[1] یعنی ان کے روبرو تقریر کرنے والا ہوں۔