کتاب: دعوت دین کہاں دی جائے؟ - صفحہ 173
’’بے شک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عذاب میں مبتلا دو قبروں(والوں)کے پاس سے گزرے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’إِنَّہُمَا لَیُعَذَّبَانِ، وَمَا یُعَذَّبَانِ فِی کَبِیرٍ:أَمَّا أَحَدُہُمَا فَکَانَ لَا یَسْتَتِرُ مِنَ الْبَوْلِ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَکَانَ یَمْشِي بِالنَّمِیمَۃِ۔‘‘…الحدیث [1]
’’بے شک ان دونوں کو عذاب دیا جارہا ہے اور انہیں کسی بڑے گناہ کی وجہ سے عذاب نہیں دیا جارہا:ایک پیشاب سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغل خوری کیا کرتا تھا۔‘‘ …الحدیث
اس حدیث میں ہم دیکھتے ہیں، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دو قبروں کے پاس سے گزرتے ہوئے حضرات صحابہ کو بتلایا، کہ ان میں سے ایک کو پیشاب سے نہ بچنے اور دوسرے کو چغل خوری کی بنا پر عذاب دیا جارہا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس خبر دینے میں ضمنی طور پر صحابہ کرام کو ان دونوں گناہوں سے دور رہنے کی تلقین تھی، کہ کہیں وہ ان گناہوں کا ارتکاب کرکے قبروں میں مبتلائے عذاب نہ ہوجائیں۔ اَللّٰہُمَّ إِنَّا نَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ۔
ج:قبر کے پاس سے گزرتے ہوئے غیبت سے روکنا:
امام احمد اور امام طبرانی نے حضرت یعلی بن شبابہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر کے پاس سے گزرے، جس میں موجود شخص کو عذاب دیا جارہا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
[1] متفق علیہ:صحیح البخاري، کتاب الجنائز، باب الجریدۃ علی القبر، جزء من رقم الحدیث ۱۳۶۱، ۳/۲۲۲۔۲۲۳؛ وصحیح مسلم، کتاب الطہارۃ، باب الدلیل علی نجاسۃ البول ووجوب الاستبراء منہ، جزء من رقم الحدیث ۱۱۱۔(۲۶۲)، ۱/۲۴۰۔۲۴۱۔ الفاظِ حدیث صحیح البخاری کے ہیں۔