کتاب: دعوت دین کہاں دی جائے؟ - صفحہ 169
وہ تمہیں وہ عذابِ قبر سنائیں، جو میں سنتا ہوں۔‘‘
پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چہرے کے ساتھ ہماری طرف متوجہ ہوئے [1] اور فرمایا:
’’تَعَوَّذُوا بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ۔‘‘
’’اللہ تعالیٰ سے(دوزخ کی)آگ کے عذاب سے پناہ طلب کرو۔‘‘
انہوں نے کہا:’’نَعُوذُ بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ۔‘‘
’’ہم اللہ تعالیٰ سے(دوزخ کی)آگ کے عذاب سے پناہ مانگتے ہیں۔‘‘
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’تَعَوَّذُوا بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ۔‘‘
’’اللہ تعالیٰ سے قبر کے عذاب سے پناہ طلب کرو۔‘‘
انہوں نے کہا:’’نَعُوذُ بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ۔‘‘
’’ہم عذاب قبر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے ہیں۔‘‘
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’تَعَوَّذُوا بِاللّٰہِ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَمَا بَطَنَ۔‘‘
’’اللہ تعالیٰ سے ظاہر اور پوشیدہ فتنوں سے پناہ طلب کرو۔‘‘
انہوں نے کہا:’’نَعُوذُ بِاللّٰہِ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَمَا بَطَنَ۔‘‘
’’ہم ظاہر اور مخفی فتنوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔‘‘
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’تَعَوَّذُوا بِاللّٰہِ مِنْ فِتْنَۃِ الدَّجَّالِ۔‘‘
’’اللہ تعالیٰ سے دجال کے فتنے سے پناہ طلب کرو۔‘‘
انہوں نے کہا:’’نَعُوذُ بِاللّٰہِ مِنْ فِتْنَۃِ الدَّجَّالِ۔‘‘[2]
’’ہم دجال کے فتنے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے ہیں۔‘‘
[1] یعنی اپنا چہرہ مبارک ہماری طرف کیا۔
[2] صحیح مسلم، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیہما وأہلہا، باب عرض مقعد المیت من الجنۃ أو النار علیہ وإثبات عذاب القبر والتعوّذ منہ، رقم الحدیث ۶۷۔(۲۸۶۷)، ۴/۲۱۹۹۔۲۲۰۰۔