کتاب: دعوت دین کہاں دی جائے؟ - صفحہ 164
فَیُنَادِيْ مُنَادٍ مِنَ السَّمائِ:’’أنْ کَذَبَ، فَأفْرِشُوا لَہُ مِنَ النَّارِ، وَافْتَحَوُا لَہُ بابًا إلی النّارِ‘‘
فَیَأْتِیْہِ مِنْ حَرِّہا وَسَمُومِہَا، وَیُضَیَّقُ عَلَیْہِ قَبْرُہُ، حَتَّی تَخْتَلِفَ فِیہِ أَضْلَاعُہُ۔
وَیَأْتِیہِ رَجُلٌ قَبیحُ الوَجْہِ، قبیحُ الثِّیَابِ، مُنْتِنُ الرِّیحِ، فَیَقُولُ:’’أبْشِرْ بِالَّذِيْ یَسُوْؤُکَ، ہٰذَا یَوْمُکَ الَّذِيْ کُنْتَ تُوعَدُ،‘‘
فَیَقُوْلُ:’’مَنْ أنْتَ؟ فَوَجْہُکَ الْوَجْہُ یَجيئُ بالشَّرِّ۔‘‘
فَیَقُوْلُ:’’ أَنَا عَمَلُکَ الخَبِیثُ،‘‘
فَیَقُوْلُ:’’رَبِّ لَا تُقِمِ السَّاعَۃِ۔‘‘ [1]
’’تو وہ اس کے جسم میں بکھر جاتی ہے۔ وہ اسے اس طرح کھینچتا ہے، جیسے کہ گیلی اُون سے گرم سلاخ کو نکالا جاتا ہے۔ پھر وہ اسے پکڑلیتا ہے۔ جب وہ اسے پکڑتا ہے، تو وہ(یعنی دوسرے فرشتے)آنکھ جھپکنے کے بقدر بھی اس کے ہاتھ میں نہیں رہنے دیتے، یہاں تک کہ وہ اسے ان ٹاٹوں میں رکھ دیتے ہیں اور اس [روح] سے روئے زمین کے بدترین بدبو
[1] المسند، رقم الحدیث ۱۸۵۳۴، ۳۰/۴۹۹۔۵۰۳، وسنن أبي داود، کتاب السنۃ، باب المسألۃ في القبر وعذاب القبر، رقم الحدیث ۴۷۳۸، ۱۳/۶۳۔ شیخ ارناؤوط اور ان کے رفقاء نے [المسند کی سند کو صحیح] اور شیخ البانی نے سنن ابی داؤد کی [حدیث کو صحیح] قرار دیا ہے۔(ملاحظہ ہو:ہامش المسند ۳۰/۵۰۳؛ وصحیح سنن أبي داود ۳/۹۰۲)۔ حدیث کی مفصل تخریج کے لیے دیکھئے:أحکام الجنائز للشیخ الألباني ص۱۵۹۔۱۶۰؛ وہامش المسند ۳۰/۵۰۳۔۵۰۴)۔ تنبیہ:امام ابن قیم نے اس حدیث پر اعتراضات کا ذکر کرکے ان کے مسکت اور شافی جوابات دیے ہیں۔(ملاحظہ ہو:تہذیب السنن ۷/۱۳۹۔۱۴۶)۔