کتاب: دعوت دین کہاں دی جائے؟ - صفحہ 155
’’تم عمل کرو، پس ہر ایک کے لیے آسان کیا جاتا ہے۔‘‘[1] پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے(ان آیات کی)تلاوت کی: [ترجمہ:پس وہ جس نے دیا اور تقویٰ اختیار کیا، اور سب سے اچھی بات کی تصدیق کی، تو ہم اسے آسان راستے کے لیے سہولت دیں گے اور لیکن جس نے بخل کیا اور بے پروا رہا اور سب سے اچھی بات کو جھٹلایا، تو ہم اسے مشکل راستے کے لیے سہولت دیں گے۔] اس واقعہ سے یہ بات واضح ہے، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قبرستان بقیع الغرقد میں نصیحت فرمائی۔ امام بخاری نے اس پر درج ذیل عنوان تحریر کیا ہے: [بَابُ مَوْعِظَۃِ الْمُحَدِّثِ عِنْدَ الْقَبْرِ وَقُعُوْدِ أَصْحَابِہِ حَوْلَہُ] [2] [محدث کا قبر کے پاس بیٹھ کر نصیحت کرنا اور اس کے شاگردوں کا اس کے اردگرد بیٹھنا] علامہ ابن بطال اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں: ’’اس میں قبروں کے پاس بیٹھنے اور وہاں علم اور وعظ و نصیحت کی بات کرنا ثابت ہوتا ہے۔‘‘[3] حدیث میں دیگر دو فائدے: ۱: وعظ و نصیحت کے دوران سمجھنے اور اشکال دور کرنے کے لیے سوال کرنے کی
[1] یعنی جس قسم کے عمل کے لیے کوئی ارادہ اور کوشش کرتا ہے، اسی عمل کا کرنا اس کے لے آسان کردیا جاتا ہے۔ حافظ ابن حجر اس کی شرح میں لکھتے ہیں:بندہ اپنی بندگی کی ذمہ داری پوری کرنے کی کوشش کرتا رہے اور ربوبیت کے بارے میں دخل اندازی کرنے کا نہ سوچے۔(ملاحظہ ہو:فتح الباري ۳/۲۲۶)۔ [2] صحیح البخاري، کتاب الجنائز، ۳/۲۲۵۔ [3] شرح صحیح البخاري لابن بطال ۳/۳۴۸؛ نیز ملاحظہ ہو:فتح الباري ۱۱/۴۹۷؛ وعمدۃ القاریء ۸/۱۸۹۔