کتاب: دعوت دین کہاں دی جائے؟ - صفحہ 154
چھوڑ دیں۔ ہم میں سے جو خوش نصیب لوگوں میں سے تھا، تو وہ سعادت مند لوگوں کے عمل کی طرف رجوع کرے گا اور جو بدبخت لوگوں میں سے تھا، تو وہ بدنصیب لوگوں کے عمل کی طرف چلا جائے گا۔‘‘
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’أَمَّا أَہْلُ السَّعَادَۃِ فَیُیَسَّرُونَ لِعَمَلِ السَّعَادَۃِ، وَأَمَّا أَہْلُ الشَّقَاوَۃِ فَیُیَسَّرُونَ لِعَمَلِ الشَّقَاوَۃِ۔‘‘
ثُمَّ قَرَأَ { فَأَمَّا مَنْ أَعْطَی وَاتَّقَی[1] }[2]
’’خوش نصیب لوگوں کے لیے سعادت والے اعمال آسان کیے جاتے ہیں اور بدنصیب لوگوں کے لیے بدبختی والے اعمال سہل کیے جاتے ہیں۔‘‘
پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا:{ فَأَمَّا مَنْ أَعْطَی وَاتَّقَی}
[ترجمہ:پس وہ جس نے دیا اور تقویٰ اختیار کیا]۔
ایک دوسری روایت میں ہے، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’اِعْمَلُوْا فَکُلٌّ مُیَسَّرٌ۔‘‘
ثُمَّ قَرَأَ:{فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰی وَاتَّقٰی۔ وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰی۔ فَسَنُیَسِّرُہُ لِلْیُسْرٰی۔ وَاَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنٰی۔ وَکَذَّبَ بِالْحُسْنٰی۔ فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْعُسْرٰی[3]} [4]
[1] سورۃ اللیل / الآیۃ ۵۔
[2] متفق علیہ:صحیح البخاري، کتاب الجنائز، رقم الحدیث ۱۳۶۲، ۳/۲۲۵؛ وصحیح مسلم، کتاب القدر، باب کیفیۃ خلق الآدمي في بطن أمہ، …، رقم الحدیث ۶۔(۲۶۴۷)، ۴/۲۰۳۹۔۲۰۴۰۔ الفاظِ حدیث صحیح البخاری کے ہیں۔
[3] سورۃ اللیل/ الآیات ۵۔۱۰۔
[4] صحیح البخاري، کتاب التفسیر، باب {فأما من أعطی واتقی}، جزء من رقم الحدیث ۴۹۴۵، ۸/۷۰۸۔