کتاب: دعوت دین کہاں دی جائے؟ - صفحہ 148
فَمَنْ اَحَبَّ اَنْ یُّزَحْزَحَ عَنِ النَّارِ وَیُدْخَلَ الْجَنَّۃَ فَلْتَاْتِہِ مَنِیَّتُہٗ، وَہُوَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ، وَلْیَاْتِ إِلَی النَّاسِ الَّذِي یُحِبُّ اَنْ یُؤْتٰی اِلَیْہِ۔ وَمَنْ بَایَعَ إِمَامًا فَأَعْطَاہٗ صَفْقَۃَ یَدِہٖ، وَثَمَرَۃَ قَلْبِہٖ، فَلْیُطِعْہٗ إِنْ اسْتَطَاعَ۔ فَإِنْ جَآئَ آخَرُ یُنَازِعُہٗ فَاضْرِبُوا عُنُقَ الْآخَرِ۔‘‘… الحدیث۔[1] آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’بے شک مجھ سے پہلے ہر نبی پر لازم تھا، کہ اسے اپنی امت کے لیے جس خیر کا علم ہوتا، وہ ان کی اس کی جانب راہنمائی کرتا اور اسے ان کے لیے جس شر سے آگاہی ہوتی، وہ انہیں اس سے ڈراتا۔ بے شک تمہاری اس امت کے اولیں حصے میں عافیت رکھی گئی ہے اور اس کے آخری حصے کو آزمائش اور ایسی باتیں پہنچے گی، جو تمہیں بُری لگیں گی۔ فتنے آئیں گے، تو ایک فتنہ دوسرے کو ہلکا کردے گا۔[2] ایک فتنہ آئے گا، تو مومن کہے گا:’’یہ یہ‘‘ مجھے ہلاک کرنے والا ہے۔‘‘ پھر وہ چھٹ جائے گا۔ پھر ایک فتنہ آئے گا، تو مومن کہے گا:’’یہ،یہ‘‘ یعنی یہ تو مجھے تباہ کرنے والا ہے۔‘‘ جو شخص پسند کرے، کہ(دوزخ کی)آگ سے بچایا جائے اور جنت میں داخل کیا جائے، تو اسے چاہیے، کہ اس کی موت(ایسی حالت میں)آئے، کہ اس کا اللہ تعالیٰ اور روزِ آخرت کے ساتھ ایمان ہو اور وہ لوگوں کے ساتھ ایسا سلوک کرے، جیسا کہ وہ چاہتا ہے، کہ لوگ اس کے ساتھ کریں۔ اور جو شخص کسی امام کی بیعت کرے اور اسے اپنا ہاتھ دے دے اور دل
[1] صحیح مسلم(المطبوع مع شرح النووي)، کتاب الإمارۃ، باب وجوب الوفاء ببیعۃ الخلیفۃ الأول فالأول، ۱۲/۲۳۲۔۲۳۴۔ [2] یعنی بعد میں آنے والا فتنہ اتنا بڑا ہوگا، کہ اس کے مقابلے میں پہلے والا فتنہ معمولی نظر آئے گا۔(ملاحظہ ہو:شرح النووي ۱۲/۲۳۳)۔