کتاب: دعوت دین کہاں دی جائے؟ - صفحہ 145
بیان کیا: ’’رَجَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم مِنْ مَکَّۃَ إِلَی الْمَدِینَۃِ، حَتّٰی إِذَا کُنَّا بِمَآئٍ بِالطَّرِیقِ، تَعَجَّلَ قَوْمٌ عِنْدَ الْعَصْرِ، فَتَوَضَّؤُا وَہُمْ عِجَالٌ، فَانْتَہَیْنَا إِلَیْہِمْ، وَأَعْقَابُہُمْ تَلُوحُ لَمْ یَمَسَّہَا الْمَآئُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم: ’’وَیْلٌ لِّلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ! أَسْبِغُوا الْوُضُوٓئَ۔‘‘[1] ’’ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں مکہ(مکرمہ)سے مدینہ(طیبہ)پلٹے، یہاں تک کہ ہمیں راستے میں ایک جگہ پانی ملا، تو کچھ لو گوں نے عصر کی نماز کے لیے جلدی کرتے ہوئے عجلت میں وضو کیا، ہم ان کے پاس پہنچے، تو(دیکھا کہ)ان کی ایڑھیوں کو پانی نہیں پہنچا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ایڑھیوں کے لیے(دوزخ کی)آگ کی ویل[2](نامی وادی)ہے۔ وضو مکمل کرو۔‘‘ اس حدیث سے واضح ہے، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض حضراتِ صحابہ کی وضو میں کوتاہی پر احتساب کیا اور انہیں وضو مکمل کرنے کا حکم دیا اور یہ واقعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ کے لیے سفر کے دوران تھا۔
[1] صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ، باب وجوب غسل الرجلین بکما لہما، رقم الحدیث ۲۶۔(۲۴۱)، ۱/۲۱۴۔ اسی مفہوم کی حدیث امام بخاری نے بھی روایت کی ہے۔(ملاحظہ ہو:صحیح البخاري، کتاب الوضوء، باب غسل الرجلین ولا یمسح علی القدمین، رقم الحدیث ۱۶۳، ۱/۲۶۵۔ [2] (ویل):حافظ ابن حجر لکھتے ہیں، کہ اس کے بارے میں متعدد اقوال ہیں، سب سے قوی قول امام ابن حبان کی کتاب [صحیح] میں ابوسعید رضی اللہ عنہ کے حوالے سے روایت کردہ مرفوع حدیث میں ہے، کہ [ویل] جہنم کی ایک وادی ہے۔(فتح الباري ۱/۲۶۶)۔