کتاب: دعوت دین کہاں دی جائے؟ - صفحہ 144
سنی، تو انہوں نے گمان کیا، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصود وہ ہیں۔[1] جو لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے تھے، وہ رک گئے اور جو پیچھے تھے، وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو آملے، یہاں تک کہ وہ(سب)اکٹھے ہوگئے،[2](تو)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بے شک جس شخص نے گواہی دی، کہ [اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ](تو)اللہ تعالیٰ اس پر(دوزخ کی)آگ حرام کردیتے ہیں اور اس کے لیے جنت واجب کردیتے ہیں۔‘‘ اس حدیث سے یہ بات واضح ہے، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دورانِ سفر اپنے ہم سفر صحابہ کے لیے توحید کی شہادت دینے کے عظیم ثمرات کو بیان فرمائے۔ حدیث میں دیگر دو فوائد: ۱: مخاطب کی توجہ مبذول کروانے اور اس سے اظہارِ تعلق کے لیے نام لے کر اسے بلانا۔[3] ۲: گفتگو کے آغاز سے پیشتر لوگوں کو اپنے قریب جمع کرنا۔[4] د:دورانِ سفر وضو میں کوتاہی پر ٹوکنا: امام مسلم نے حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے
[1] یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے ہیں، کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد اکٹھے ہوجائیں۔ [2] ایک دوسری روایت میں ہے:’’یہاں تک کہ ہم سے آگے اور پیچھے والے(سب)لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی(آواز کو)سن لیا اور وہ(آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد)اکٹھے ہوگئے اور انہیں پتہ چل گیا، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز کے متعلق گفتگو فرمانا چاہتے ہیں۔‘‘(المسند، جزء من رقم الحدیث ۱۵۸۳۹، ۲۵/۱۶۲)۔ شیخ ارناؤوط اور ان کے رفقاء نے اسے [صحیح لغیرہ] قرار دیا ہے۔(ملاحظہ ہو:ہامش المسند ۲۵/۱۶۳)۔ [3] تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو:’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت معلم‘‘ ص۱۱۸۔۱۳۰۔ [4] تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو:المرجع السابق ص۱۰۰۔۱۰۲۔