کتاب: دعوت دین کہاں دی جائے؟ - صفحہ 143
اس حدیث سے یہ بات واضح ہے، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران سفر اپنے ایک صحابی کو قرآن کریم کی افضل سورت سے آگاہ فرمایا۔ ج:دورانِ سفر شہادتِ توحید کے ثمرات کا بیان: امام احمد نے حضرت سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا: ’’بَیْنَمَا نَحْنُ فِيْ سَفَرٍ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم، وَأَنَا رَدِیْفُہُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم:’’یَا سُہَیْلَ بْنَ الْبَیْضَائِ!‘‘ وَرَفَعَ صَوْتَہُ مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلَاثًا۔ ’’ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں ایک سفر میں تھے اور میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’اے سہیل بن البیضاء!‘‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا تین بار اپنی آواز بلند فرمائی کُلُّ ذٰلِکَ یُجِیْبُہُ سُہَیْلٌ۔ فَسَمِعَ النَّاسُ صَوْتَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم، فَظَّنُوْا أَنَّہُ یُرِیْدُہُمْ، فَحُبِسَ مَنْ کَانَ بَیْنَ یَدَیْہِ، وَلَحِقَہُ مَنْ کَانَ خَلْفَہُ، حَتّٰی إِذَا اجْتَمَعُوْا، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم: ’’إِنَّہُ مَنْ شَہِدَ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، حَرَّمَہُ اللّٰہُ عَلَی النَّارِ، وَأَوْجَبَ لَہُ الْجَنَّۃَ۔‘‘[1] سہیل رضی اللہ عنہ ہر مرتبہ جواب دیتے۔ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز
[1] المسند، رقم الحدیث ۱۵۷۳۸، ۲۵/۱۵۔ شیخ ارناؤوط اور ان کے رفقاء نے اسے [صحیح لغیرہ] کہا ہے اور اس [سند کو انقطاع کی بنا پر ضعیف] قرار دیا ہے۔(ملاحظہ ہو:ہامش المسند ۲۵/۱۵)۔