کتاب: دعوت دین کہاں دی جائے؟ - صفحہ 142
اس حدیث سے یہ بات واضح ہے، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو دورانِ سفر ’’کدید‘‘ یا ’’قدید‘‘ کے مقام پر وعظ ونصیحت فرمائی۔ ب:دورانِ سفر قرآن کی افضل سورہ کی خبر دینا: امام ابن حبان اور امام حاکم نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا: ’’کَانَ النَّبِيُّ صلي اللّٰهُ عليه وسلم فِيْ مَسِیْرٍ، فَنَزَلَ، وَنَزَلَ رَجُلٌ إِلٰی جَانِبِہِ۔‘‘ ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے(ایک جگہ)پڑاؤ ڈالا۔ ایک شخص نے(بھی)آپ کے پہلو میں پڑاؤ ڈالا۔ انہوں [1] نے بیان کیا: ’’فَالْتَفَتَ النَّبِيُّ صلي اللّٰهُ عليه وسلم، فَقَالَ: ’’أَلَا أُخْبِرُکَ بِأَفْضَلِ الْقُرْآَنِ؟‘‘ ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم(اس کی جانب)متوجہ ہوئے اور فرمایا: ’’کیا میں تمہیں قرآن کی افضل(سورہ)کی خبر نہ دوں ؟‘‘ انہوں نے بیان کیا: ’’فَتَلَا عَلَیْہِ {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ}[2] ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر(الحمد للہ رب العالمین)کی تلاوت فرمائی۔
[1] اس سے مراد حضرت انس رضی اللہ عنہ ہیں۔ [2] الإحسان في تقریب صحیح ابن حبان، کتاب الرقائق، باب قرائۃ القرآن، ذکر البیان بأن فاتحۃ الکتاب من أفضل القرآن، رقم الحدیث ۷۷۴، ۳/۵۱؛ والمستدرک علی الصحیحین، کتاب فضائل القرآن، ۱/۵۶۰۔ الفاظِ حدیث المستدرک کے ہیں۔ امام حاکم نے اس کی [سند کو صحیح] قرار دیا ہے اور حافظ ذہبی نے اس پر سکوت اختیار کیا ہے۔ شیخ البانی نے اسے [صحیح] کہا ہے۔(ملاحظہ ہو:المرجع السابق ۱/۵۶۰؛ التلخیص ۱/۵۶۰؛ وصحیح الترغیب والترہیب ۲/۱۷۹و۱۸۰)۔