کتاب: دعوت دین کہاں دی جائے؟ - صفحہ 140
…یا انھوں نے کہا:’’قدید [1] میں ‘‘… تو لوگ اپنے گھر والوں کی طرف جانے کی اجازت طلب کرنے لگے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اجازت دیتے رہے۔
انہوں(یعنی راوی)نے بیان کیا:
’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی اور خیر(کی بات)ارشاد فرمائی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’أَشْہَدُ عِنْدَ اللّٰہِ لَا یَمُوْتُ عَبْدٌ شَہِدَ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا صلي اللّٰهُ عليه وسلم رَسُوْلُ اللّٰہِ صَادِقًا مِنْ قَلْبِہِ، ثُمَّ یُسَدِّدُ إِلَّا سَلَکَ فِيْ الْجَنَّۃِ۔‘‘
’’میں اللہ تعالیٰ کے روبرو گواہی دیتا ہوں:
کوئی بندہ اپنے دل سے اس بات کی گواہی دیتے ہوئے فوت نہیں ہوتا، کہ بے شک اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بلاشبہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، پھر وہ سیدھا چلتا ہے(یعنی کتاب و سنت کے مطابق زندگی بسر کرتا)، مگر وہ جنت میں داخل ہوجاتا ہے۔‘‘
پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’وَعَدَنِي رَبِّي أَنْ یُدْخِلَ مِنْ أُمَّتِيْ سَبْعِیْنَ أَلْفًا بِغَیْرِ حِسَابٍ، وَإِنِّيْ لَأَرْجُوْ أَنْ لَّا یَدْخُلُوْہَا حَتّٰی تَبَوَّئُ وْا أَنْتُمْ، وَمَنْ صَلَحَ مِنْ أَزْوَاجِکُمْ وَذَرَارِیْکُمْ مَسَاکِنَ فِي الْجَنَّۃِ۔‘‘
’’میرے رب نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے، کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار لوگوں کو بلاحساب جنت میں داخل فرمائیں گے۔ مجھے بلاشک و شبہ
[1] (قُدَیْد):کثیر چشموں اور باغات والی ایک بڑی بستی۔ کدید سے مکہ مکرمہ کی مخالف سمت میں سولہ میل کے فاصلے پر ہے۔(ملاحظہ ہو:معجم ما استعجم من أسماء البلاد والمواضع، العنوان:’’قُدَید‘‘، ۳/۱۰۵۴)۔