کتاب: دعوت دین کہاں دی جائے؟ - صفحہ 139
۳: امرو نہی کا سبب بیان کرنا۔
۴: ممنوعہ چیز کے نعم البدل کی خبر۔
اس بارے میں دیگر تین شواہد:
۱: راستے میں چچازاد بھائی کو مفید باتوں کی تعلیم دینا۔[1]
۲: راستے میں معاذ رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ کے بندوں پر اور ان کے اللہ تعالیٰ پر حق کی خبر دینا۔[2]
۳: راستے میں سوار شاگرد کے ساتھ چلتے ہوئے نصیحت۔[3]
-۱۲-
سفر میں دعوتِ دین
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوران سفر دعوتِ دین کو نہ بھولتے، بلکہ اس کا خصوصی اہتمام فرماتے۔ حضرات صحابہ کی تعلیم و تربیت اور تزکیہ کی طرف توجہ فرماتے۔ موقع میسر آنے پر غیر مسلموں کو دعوتِ اسلام دیتے۔ صرف یہی نہیں بلکہ دعوتِ دین کی خاطر سفر فرماتے۔ اس بارے میں ذیل میں سات مثالیں ملاحظہ فرمائیے:
ا:کَدِید یا قُدیْد کے مقام پر وعظ و نصیحت:
امام احمد نے حضرت رفاعہ جھنی رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انھوں نے بیان کیا:
’’ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں آئے، یہاں تک کہ ہم کدید[4] میں تھے،
[1] تفصیل اور حوالہ کے لیے ملاحظہ ہو:’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت معلم‘‘ ص۷۷۔۷۸۔
[2] تفصیل اور حوالہ کے لیے ملاحظہ ہو:المرجع السابق ص۱۲۵۔۱۲۷۔
[3] تفصیل اور حوالہ کے لیے ملاحظہ ہو:المرجع السابق ص۳۳۱۔۳۳۲
[4] (اَلْکَدِیْد):مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ کے درمیان ایک جگہ ہے، جہاں جاری پانی کا چشمہ ہے۔(ملاحظہ ہو:معجم ما استعجم من أسماء البلاد والمواضع، العنوان:’’الکدید‘‘، ۴/۱۱۱۹)۔ علامہ یاقوت حموی لکھتے ہیں، کہ یہ جگہ مکہ مکرمہ سے بیالیس میل کے فاصلے پر ہے۔(معجم البلدان ۴/۵۰۱)۔