کتاب: دعوت دین کہاں دی جائے؟ - صفحہ 137
اس کی بلند ترین بات کی خبر دی۔ فصلوات ربي وسلامہ علیہ۔ حدیث میں دیگر سات فوائد: ۱: مخاطب [1] کو اس کا نام لے کر آواز دینا۔[2] ۲: مخاطب کو گفتگو کا آغاز کرنے سے پیشتر اپنے قریب کرنا۔ [3] ۳: سوال کرنے کی اجازت دینا۔[4] ۴: اچھے سوال کی تعریف کرنا۔[5] ۵: بات کا فرمائش پر اور بغیر فرمائش اعادہ کرنا۔[6] ۶: تفصیل سے بات کرنے سے پیشتر اجمالی طور پر اس کا ذکر کرنا۔[7] ۷: سوال سے زیادہ جواب دینا۔[8] و:راستے میں گزرتے ہوئے سواری کے ٹھوکر کھانے پر درست بات کہنے کی تلقین: امام احمد نے ابوتمیمہ ھجیمی کے حوالے سے اس شخص سے روایت نقل کی ہے، جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا۔ انھوں رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: ’’کُنْتُ رَدِیْفَہُ صلي اللّٰهُ عليه وسلم عَلٰی حِمَارٍ، فَعَثَرَ الْحِمَارُ، فَقُلْتُ:’’تَعِسَ الشَّیْطَانُ۔‘‘
[1] (مخاطب):جس کے ساتھ دعوتِ دین یا تعلیم دینے کے لیے گفتگو کی جائے۔ [2] تفصیل تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو:’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت معلم‘‘ ص ۱۱۸۔۱۳۰۔ [3] تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو:المرجع السابق ص۱۰۰۔۱۰۲۔ [4] تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو:المرجع السابق ص۲۴۲۔۲۵۲۔ [5] تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو:المرجع السابق ص۲۵۳۔۲۶۱۔ [6] تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو:المرجع السابق ص۱۵۴۔۱۶۷۔ [7] تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو:المرجع السابق ص۲۰۴۔۲۱۳۔ [8] تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو:المرجع السابق ص۲۶۹۔۲۸۰۔