کتاب: دعوت دین کہاں دی جائے؟ - صفحہ 136
دِمَائَہُمْ وَاَمْوَالَہُمْ، إِلَّا بِحَقِّہَا، وَحِسَابُہُمْ عَلَی اللّٰہِ۔‘‘[1]
’’اس بات کی اساس یہ ہے، کہ تم گواہی دو، کہ تنہا اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ ان کا کوئی شریک نہیں اور بے شک محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان کے بندے اور رسول ہیں۔
اور یقینا اس بات کی بنیاد نماز کا قائم کرنا اور زکوٰۃ کا ادا کرنا ہے۔
اور بلاشبہ اس کی بلند ترین بات اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد ہے۔
مجھے حکم یہی دیا گیا ہے، کہ لوگوں سے لڑائی کروں، یہاں تک کہ وہ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں اور وہ گواہی دیں، کہ تنہا اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ ان کا کوئی شریک نہیں اور یقینا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان کے بندے اور رسول ہیں، سو جب وہ یہ کریں گے، تو انہوں نے(اللہ تعالیٰ کی رسی کو)مضبوطی سے تھام لیا اور انہوں نے اپنے خونوں اور مالوں کو بچالیا، مگر ان کے حق کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہے۔‘‘
اس حدیث سے یہ بات واضح ہے، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے راستے میں چلتے ہوئے معاذ رضی اللہ عنہ کو جنت میں داخل کرنے والے عمل، دین کی اصل، اس کی بنیاد اور
[1] المسند، جزء من رقم الحدیث ۲۲۱۲۲، ۳۶/۴۳۳۔ ۴۳۴۔ شیخ ارناؤوط اور ان کے رفقاء نے حدیث کے مذکورہ بالا حصے کو اس کے متعدد طرق اور شواہد کی بنا پر [صحیح] قرار دیا ہے۔(ملاحظہ ہو:ھامش المسند ۳۶/۴۳۵۔ اسی حدیث کو الفاظ کے اختلاف کے ساتھ حضرات ائمہ عبد بن حمید، ترمذی اور ابن ماجہ نے بھی روایت کیا ہے۔(ملاحظہ ہو:المنتخب من مسند عبد بن حمید، رقم الحدیث ۱۱۲، ۱/۱۴۴۔۱۴۶؛ وجامع الترمذي، أبواب الإیمان، باب ما جاء في حرمۃ الصلاۃ، رقم الحدیث ۲۷۴۹، ۷/۳۰۳۔۳۰۵؛ وسنن ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب کف اللسان في الفتنۃ، رقم الحدیث ۳۹۷۳، ۵/۴۵۹۔۴۶۱۔ امام ترمذی نے اسے [حسن صحیح]؛ شیخ البانی نے [صحیح] اور شیخ العدوی نے [متعدد طرق اور شواہد کی بنا پر صحیح] قرار دیا ہے۔(ملاحظہ ہو:جامع الترمذي ۷/۳۰۶؛ وصحیح سنن الترمذي ۲/۳۷۹؛ وصحیح سنن ابن ماجہ ۲/۳۵۹؛ وہامش المنتخب من مسند عبد بن حمید ۱/۱۴۴)۔