کتاب: دعوت دین کس وقت دی جائے - صفحہ 97
[پس جب وہ(یعنی ہدیہ)سلیمان-علیہ السلام-کے پاس آیا،تو انہوں نے کہا: ’’کیا تم مال کے ساتھ میری مدد کرتے ہو؟ تو جو کچھ اللہ تعالیٰ نے مجھے دیا ہے،وہ اس سے بہتر ہے،جو کچھ انہوں نے تمہیں دیا ہے،بلکہ تم ہی اپنے تحفہ پر خوش ہوتے ہو۔ تم ان کے پاس لوٹ جاؤ۔پس یقینا ہم اُن پر ایسے لشکروں کے ساتھ ضرور آئیں گے،جن کے مقابلے کی اُن میں کوئی طاقت نہیں اور یقینا ہم انہیں وہاں سے ذلیل و خوار کر کے نکالیں گے۔‘‘] ملکۂ سبا حضرت سلیمان علیہ السلام کا پیغام سُن کر اُن کی جانب روانہ ہوئی۔حضرت سلیمان نے اُس کی آمد سے پیشتر اس کا عرش ایک صاحبِ علم شخص کے ذریعہ سے اپنے ہاں منگوا رکھا تھا،ملکہ جسے دیکھ کر بہت حیران ہوئی۔ربِّ کریم نے اس بارے میں حضرت سلیمان علیہ السلام اور اس کی گفتگو کے متعلق فرمایا: ﴿فَلَمَّا جَائَ تْ قِیْلَ أَہٰکَذَا عَرْشُکِ قَالَتْ کَأَنَّہٗ ہُوَ وَ أُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِہَا وَکُنَّا مُسْلِمِیْنَ﴾[1] [پس جب وہ آئی،تو اُس سے کہا گیا: کہنے لگی: ’’یہ تو گویا وہی ہے اور ہمیں تو پہلے ہی(آپ کی برتری کا)علم ہو چکا تھا اور ہم(آپ کے)تابع فرمان ہو چکے تھے۔‘‘ پھر ملکہ کو ایک ایسے محل میں داخل ہونے کے لیے کہا گیا،جس کا فرش چکنے شیشے کا تھا۔اس نے وہاں پہنچتے ہی،چکنے شیشے کو پانی سمجھتے ہوئے اپنی پنڈلیوں سے کپڑے اٹھا لیے۔حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس غلطی پر تنبیہ فرمائی،تو اس نے اپنے اسلام کا اعلان کر دیا۔اس حوالے سے ربِّ کریم نے فرمایا: [1] سورۃ النمل/ الآیۃ ۴۲۔