کتاب: دعوت دین کس وقت دی جائے - صفحہ 87
عَنِ الْبُکَآئِ عَلٰی أَبِيْ بَکْرٍ رضی اللّٰه عنہ،فَأَبَیْنَ أَنْ یَّنْتَہِیَنَّ۔‘‘ [جب ابوبکر رضی اللہ عنہ فوت ہوئے،تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے نوحہ کیا(یعنی زور سے روئی)۔عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں(یعنی عائشہ اور اُن کے ساتھ شریک دیگر خواتین کو)رونے سے منع کیا،تو انہوں نے باز آنے سے انکار کر دیا۔‘‘] عمر رضی اللہ عنہ نے ہشام بن الولید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’اُدْخُلْ فَأَخْرِجْ إِلَيَّ اِبْنَۃَ أَبِيْ قُحَافَۃَ،أُخْتَ أَبِيْ بَکْرٍ-رضی اللّٰه عنہما-۔‘‘ [’’(گھر میں)داخل ہو جاؤ،ابوقحافہ کی بیٹی،ابوبکر کی بہن-رضی اللہ عنہما-کو میرے پاس باہر باہر نکال لاؤ۔‘‘] عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب عمر رضی اللہ عنہ کو یہ بات ہشام بن الولید رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا،تو کہنے لگیں: ’’إِنِّيْ أُحَرِّجُ عَلَیْکَ بَیْتِيْ۔‘‘ [’’یقینا میں آپ کو اپنے گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتی۔‘‘] عمر رضی اللہ عنہ نے ہشام رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’أُدْخُلْ،فَقَدْ أَذِنْتُ لَکَ۔‘‘ [’’تم(گھر میں)داخل ہو جاؤ،پس یقینا میں نے آپ کو(اس کی)اجازت دی ہے۔‘‘] فَدَخَلَ ہِشَامٌ،فَأَخْرَجَ أُمَّ فَرْوَۃَ أُخْتَ أَبِيْ بَکْرٍ إِلٰی عُمَرَ رضی اللّٰه عنہما،فَعَلَاہَا بِالدِّرَّۃِ،فَضَرَبَہَا ضَرَبَاتٍ،فَتَفَرَّقَ النَّوْحُ حِیْنَ سَمِعُوْا ذٰلِکَ۔[1] [1] تاریخ الطبري ۳/۴۲۳؛ نیز ملاحظہ ہو:الطبقات الکبری ۳/۲۰۸-۲۹؛ و الکامل لابن الأثیر ۲/۲۸۸۔