کتاب: دعوت دین کس وقت دی جائے - صفحہ 73
مبحث سوئم پیاروں کی وفات کے وقت دعوت دینا عام طور پر اعزہ و اقارب اور احباب کی وفات بندے کو ذہنی طور پر پریشان اور ذمہ داری سے غافل کر دیتی ہے،لیکن ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے تربیت یافتہ حضرات صحابہ رضی اللہ عنہما ایسے نہیں تھے۔وہ مقدس لوگ ایسے حالات میں بھی دعوت و ارشاد اور تعلیم و تربیت کے فریضہ کو سرانجام دیتے تھے۔ ا:سیرت طیبہ سے دو مثالیں ۱:ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے موقع پر دعوت و تربیت: امام مسلم نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی ہے،(کہ)انہوں نے بیان کیا: ’’دَخَلَ رَسُولُ اللّٰہِ صلى اللّٰه عليه وسلم عَلٰی أَبِی سَلَمَۃَ،وَقَدْ شَقَّ بَصَرُہٗ،فَاَغْمَضَہٗ،ثُمَّ قَالَ: ’’إِنَّ الرُّوْحَ إِذَا قُبِضَ تَبِعَہُ الْبَصَرُ۔‘‘ [’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابو سلمہ-رضی اللہ عنہ-کے پاس(عیادت کی غرض سے)تشریف لائے،(تو وہ فوت ہو چکے تھے)اور اُن کی آنکھیں کھلی رہ گئی تھیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بند کر دیا اور فرمایا: [’’بلاشبہ جب روح قبض کر لی جاتی ہے،تو آنکھیں اس کا تعاقب کرتی ہیں‘‘]۔ فَضَجَّ نَاسٌ مِنْ اَہْلِہٖ،فَقَالَ: ’’لَا تَدْعُوْا عَلٰی أَنْفُسِکُمْ إِلَّا بِخَیْرٍ فَإِنَّ الْمَلَآ ئِکَۃَ یُؤَمِّنُوْنَ عَلٰی مَا