کتاب: دعوت دین کس وقت دی جائے - صفحہ 64
ج:حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو دعوتِ ایمان کنایۃً دیتے ہوئے کہا:’’ہمارے ساتھ سوار ہو جائیے۔‘‘ شیخ ابن عاشور لکھتے ہیں: ’’(اِرْکَبْ مَّعَنَا)کِنَایَۃٌ عَنْ دَعْوَتِہٖ إِلَی الْإِیْمَانِ بِطَرِیْقَۃِ الْعَرْضِ وَ التَّحْذِیْرِ۔‘‘[1] ڈراتے ہوئے دعوت ایمان کنایۃً ذکر کی ہے۔ شیخ قاسمی نے لکھا ہے: ’’(یَا بُنَيَّ ارْکَبْ مَّعَنَا):أَيْ:اُدْخُلْ فِيْ دِیْنِنَا وَ اصْحَبْنَا فِيْ السَّفِیْنَۃِ۔‘‘[2] ’’[اے میرے چھوٹے سے بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جاؤ] یعنی:ہمارے دین میں داخل ہو جاؤ اور کشتی میں ہمارے ساتھ ہو جاؤ۔‘‘] بسا اوقات بات نہ ماننے والا مخاطب اسی بات کے دہرانے پر آگ بگولہ ہو جاتا ہے،لیکن اس بے سمجھ مخاطب کے لیے شدید خیرخواہی اور ہمدردی رکھنے والا متکلم اسی بات کو ایک دوسرے انداز سے اس کے روبرو پیش کرتا ہے،کہ شاید مخاطب بات کا سننا گوارا کر لے اور اس کا سینہ اس کے قبول کرنے کے لیے کھول دیا جائے۔شاید حضرت نوح علیہ السلام کا اس مقام پر کنایۃً دعوت اسی قبیل سے ہو۔و اللّٰہ تعالٰی أعلم۔ د:حضرت نوح علیہ السلام نے بیٹے کو دعوتِ ایمان دیتے ہوئے ازراہِ تاکید فرمایا:[وَ لَا تَکُنْ مِّنَ الْکَافِرِیْنَ] [اور کافر لوگوں میں سے نہ ہو جاؤ]۔اسی بارے میں علامہ الوسی لکھتے ہیں: ’’تَأْکِیْدٌ لِّلْأَمْرِ،وَ ہُوَ نَہْيٌ عَنْ مُشَایَعَۃِ الْکَفَرَۃِ وَ الدُّخُوْلِ [1] تفسیر التحریر و التنویر ۱۲/۷۶۔ [2] تفسیر القاسمي ۹/۱۲۳۔