کتاب: دعوت دین کس وقت دی جائے - صفحہ 49
[’’جب سورج کی روشنی پھوٹی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور منبر پر بیٹھے۔اللہ تعالیٰ کی تکبیر و تحمید(یعنی بڑائی اور تعریف)کے بعد فرمایا: بلاشبہ تم نے اپنے علاقوں کی قحط سالی اور بارش کے تم سے اپنے وقت سے متاخر ہونے کی شکایت کی ہے اور یقینا اللہ عزوجل نے تمہیں دعا کرنے کا حکم دیا ہے اور تم سے وعدہ فرمایا ہے،کہ وہ تمہاری دعا قبول فرمائیں گے۔‘‘ پھر(آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے)فرمایا: [ترجمہ:سب تعریف اللہ تعالیٰ رب العالمین رحمن رحیم کے لیے … الحدیث۔‘‘ اس حدیث میں ہم دیکھتے ہیں،کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدگاہ میں خطبہ ارشاد فرمانے کی غرض سے منبر رکھنے کا حکم دیا،جو رکھا گیا۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مقررہ دن وہاں تشریف لا کر لوگوں کے روبرو خطبہ ارشاد فرمایا۔ شیخ عظیم آبادی لکھتے ہیں: ’’فِیْہِ اسْتِحْبَابُ الصُّعُوْدِ عَلَی المِنْبَرِلِخُطْبَۃِ الْاِسْتِسْقَآئِ۔‘‘[1] [’’اس(حدیث)میں خطبہ استسقاء کے لیے منبر پر چڑھنے کا استحباب ہے]۔ ۲:حضراتِ ائمہ احمد،ابن ماجہ اور بیہقی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے،کہ بے شک انہوں نے بیان کیا: ’’خَرَجَ نَبِیُّ اللّٰہِ صلى اللّٰه عليه وسلم یَوْمًا یَسْتَسْقِيْ،فَصَلّٰی بِنَا رَکْعَتَیْنِ بِلَا [1] عون المعبود ۴/۲۵۔