کتاب: دعوت دین کس وقت دی جائے - صفحہ 184
’’مَنْ شَہِدَ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ-صلى اللّٰه عليه وسلم-حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ۔‘‘[1] [’’اللہ تعالیٰ کی قسم! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی کوئی حدیث نہیں سنی،کہ تمہارے لیے اس میں خیر ہو،مگر میں نے وہ تم سے بیان کر دی ماسوائے ایک حدیث کے۔آج میں تم سے عنقریب وہ بھی بیان کر دوں گا اور میری جان گھیری جا چکی ہے(یعنی موت میرے گرد منڈلا رہی ہے)۔ ’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: [’’جس شخص نے گواہی دی،کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یقینا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں،اللہ تعالیٰ اُس پر جہنم حرام قرار دے دیتے ہیں۔‘‘] اس حدیث میں ہم دیکھتے ہیں،کہ حضرت عبادۃ بن الصامت رضی اللہ عنہ بوقتِ موت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سُنی ہوئی حدیث بیان کی۔موت کی آمد نے انہیں خیر کی بات پہنچانے سے روکا نہیں،بلکہ اس کے برعکس اُس ہی نے مرنے سے پہلے وہ حدیث بیان کرنے پر آمادہ کیا،کہ کہیں ایسا نہ ہو،کہ وہ حدیث بیان کیے بغیر دنیا سے چلے جائیں،اگرچہ اُن کا اس وقت تک حدیث کا بیان نہ کرنا،اُن کے گمان میں دینی مصلحت کی بنا پر تھا۔[2] پانچ دیگر فوائد: ۱۔ خود موت کی آغوش میں آ پہنچنے کے باوجود رونے والے شاگرد کو صبر کی تلقین ۲۔ دلاسا دیتے ہوئے گفتگو میں انتہائی احتیاط ۳۔ دینی مصلحت کی بنا پر دین کی کسی بات کو کسی وقت بیان نہ کرنا اور دوسرے وقت [1] صیحح مسلم،کتاب الإیمان،باب الدلیل علی أن من مات علی التوحید دخل الجنۃ قطعًا،رقم الحدیث ۴۷(۲۹)،۱/۵۷-۵۸۔ [2] ان کے خیال میں وہ مصلحت یہ تھی،کہ کہیں لوگ حدیث کا غلط مطلب لے کر اعمالِ صالحہ کرنا نہ چھوڑ دیں۔