کتاب: دعوت دین کس وقت دی جائے - صفحہ 182
۱۰۔معاذ رضی اللہ عنہ کا بوقتِ موت حدیث بیان کرنا: حضرات ائمہ الحمیدی،احمد اور ابن حبان نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے،کہ ’’أَنَّ مُعَاذًا رضی اللّٰه عنہ لَمَّا حَضَرَتْہُ الْوَفَاۃُ قَالَ:’’اِکْشَفُوْا لِيْ سِجْفَ الْقُبَّۃِ،سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلى اللّٰه عليه وسلم یَقُوْلُ: ’’مَنْ شَہِدَ أَنْ لَّآ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ مُخْلِصًا مِّنْ قَلْبِہٖ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔‘‘[1] [’’بلاشبہ جب معاذ رضی اللہ عنہ کی موت کا وقت آیا،تو انہوں نے فرمایا: [’’میرے لیے کا پردہ ہٹاؤ،(چنانچہ وہ ہٹایا گیا،تو)انہوں نے کہا: ’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’جس شخص نے اپنے دل سے اخلاص کے ساتھ گواہی دی،کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی معبود نہیں،(تو)وہ جنت میں داخل ہو گیا۔‘‘] اللہ أکبر! حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی نگاہ میں زندگی کے آخری لحظات میں کرنے کا بہترین کام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادِ عالیٰ کا لوگوں تک پہنچانا تھا! چار دیگر فوائد: ۱۔ دین میں فرمانِ مصطفوی رضی اللہ عنہما کا حجت اور اتھارٹی ہونا ۲۔ شہادتِ توحید کی شان و عظمت [1] مسند الحمیدي،أحادیت رجال الأنصار،حدیث معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ،رقم الحدیث ۳۶۹،۱/۱۸۱؛ و المسند،رقم الحدیث ۲۲۰۶۰،۳۶/۳۸۱-۳۸۲؛ و الإحسان في تقریب صحیح ابن حبان،کتاب الإیمان،باب فرض الإیمان،ذکر البیان بأن الجنۃ إنما تجب لمن شہد للہ جل و علا بالوحدانیۃ،و کان ذلک عن یقین من قلبہ،لا أن الإقرار بالشہادۃ یوجب الجنۃ للمقر بہا دون أن یقربہا بالإخلاص،رقم الحدیث ۲۰۰،۱/۴۲۹-۴۳۰۔الفاظِ حدیث صحیح ابن حبان کے ہیں۔شیخ ارناؤوط نے ابن حبان کی حدیث کی[سند کو صحیح]کہا ہے۔(ملاحظہ ہو:ہامش الإحسان ۱/۴۳۰)۔