کتاب: دعوت دین کس وقت دی جائے - صفحہ 169
’’أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رضی اللّٰه عنہ لَمَّا عَوَّلَتْ عَلَیْہِ حَفْصَۃُ رضی اللّٰه عنہ قَالَ:’’یَا حَفْصَۃُ! أَمَّا سَمِعْتِ النَّبِيَّ صلى اللّٰه عليه وسلم یَقُوْلُ: ’’اَلْمُعَوَّلُ عَلَیْہِ یُعَذَّبُ؟‘‘ [’’بلاشک جب حفصہ رضی اللہ عنہا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ(کے فوت ہونے کے موقع)پر بلند آواز کے ساتھ روئیں اور چلّائیں،تو انہوں نے فرمایا: ’’اے حفصہ! کیا تو نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے نہیں سنا: ’’جس(مرنے والے)پر چیخا چلّایا جائے اُسے عذاب دیا جاتا ہے۔‘‘ وَ عَوَّلَ صُہَیْبٌ رضی اللّٰه عنہ،فَقَالَ عُمَرُ صلى اللّٰه عليه وسلم:’’یَا صُہَیْبُ! أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْمُعَوَّلَ عَلَیْہِ یُعَذَّبُ۔‘‘[1] [صہیب رضی اللہ عنہ بلند آواز سے روئے اور چیخے چلّائے،تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’اے صہیب! کیا تمہیں علم نہیں،کہ جس پر بلند آواز سے رویا اور چیخا چلّایا جائے،اسے عذاب دیا جاتا ہے؟‘‘] اس روایت میں ہم دیکھتے ہیں،کہ جب حضرت حفصہ اور حضرت صہیب رضی اللہ عنہما حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے فوت ہونے کے موقع پر بلند آواز سے روئے اور چیخے چلّائے،تو حضرت امیر المؤمنین نے اسے نظر انداز نہیں کیا،بلکہ بسترِ مرگ پر زخموں کی شدید اذیت کے باوجود دونوں کا احتساب فرمایا۔رَضِيَ اللّٰہُ عَنْہُ وَ عَنْہَا وَ أَرْضَاہُمْ جَمِیْعًا۔ اے ربِّ کریم! ہم ناکاروں کو بھی حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائیے۔آمِیْنَ یَا حَيُّ یَا قَیُّوْمُ۔ [1] المسند،رقم الحدیث ۲۶۸،۱/۲۷۱۔شیخ احمد شاکر نے اس کی[سند کو صحیح]قرار دیا۔(ملاحظہ ہو:ہامش المسند ۱/۲۷۱)۔نیز ملاحظہ ہو:الطبقات الکبرٰی ۳/۳۶۱۔و مناقب أمیر المؤمنین عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ ص ۲۳۰۔