کتاب: دعوت دین کس وقت دی جائے - صفحہ 161
[’’(اس میں)بہت بڑی بلاغت والا بلیغ اختصار ہے۔معنی(یہ ہے): اسلام(یعنی اللہ تعالیٰ کی تابع داری)سے چمٹ جاؤ۔اس پر مداومت(اور ہمیشگی)کرو اور موت تک اس سے ہٹو نہیں۔بہت مختصر الفاظ استعمال کیے گئے ہیں،جن میں اپنے مقصود کو سمونے کے ساتھ ساتھ موت کے متعلق وعظ و نصیحت اور اس کی یاد دہانی ہے۔ [ہر شخص کو یقینی طور پر علم ہے،کہ وہ مرنے والا ہے،لیکن اُسے اس کے وقت کا علم نہیں۔سو جب اسے حکم دیا جائے،کہ اُسے موت نہ آئے،مگر اُسی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے،تو اس حکم کی پابندی اسی وقت سے اس پر لازم ہو گئی۔‘‘] سولہ دیگر فوائد: ۱۔ [اسلوب قصہ] سے دعوتِ دین میں استفادہ کرنا ۲۔ مخاطب لوگوں کو حکم دی گئی بات یا چیز کی عظمت سے آگاہی کرنا ۳۔ مخاطب لوگوں کو پیار بھرے لقب سے خطا کرنا ۴۔ دعوت دیتے ہوئے داعی اور مخاطب کے باہمی تعلق کو اجاگر کرنا ۵۔ [موت تک اللہ تعالیٰ کی تابعداری کی تلقین کا] دعوتِ انبیاء علیہم السلام ہونا۔ ۶۔ تربیت اولاد کی ایک نہایت اہم بات:کہ [انہیں موت تک اللہ تعالیٰ کی تابعداری کرتے رہنے] کا حکم دیتے رہنا۔ ۷۔ موت تک [تربیتِ اولاد کی جدوجہد] کا جاری رہنا۔ ۸۔ [اولاد کے بڑی عمر کے ہونے کا] اُن کی تربیت کی راہ میں رکاوٹ نہ ہونا ۹۔ اہلِ ایمان و تقویٰ کو [موت تک اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری کرتے] رہنے کی تلقین کا جاری رہنا ۱۰۔ دعوت دیتے وقت مخاطب لوگوں کو شریکِ گفتگو کرنا یا بالفاظِ دیگر سوال و جواب کے ذریعہ سے دعوت دینا۔