کتاب: دعوت دین کس وقت دی جائے - صفحہ 159
[ترجمہ:اور اسی[1] کی وصیت ابراہیم-علیہ السلام-نے اپنے بیٹوں کو کی اور یعقوب-علیہ السلام-نے(بھی)۔ ’’اے میرے بیٹو! بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے اس دین کو چن لیا ہے،سو تم ہرگز فوت نہ ہونا،مگر اس حال میں کہ مسلمان(فرماں بردار)ہو۔ کیا تم موجود تھے،جب یعقوب-علیہ السلام-کو موت آئی،جب اُنہوں نے اپنے بیٹوں سے کہا:’’تم میرے بعد کس کی عبادت کرو گے؟‘‘ انہوں نے کہا:’’ہم آپ کے معبود اور آپ کے باپ دادا ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق کے معبود کی عبادت کریں گے،(جو کہ)ایک ہی معبود ہیں اور ہم اُنہی کے لیے فرماں بردار ہیں۔]۔ ان آیات کے حوالے سے تین باتیں: i:حضرت ابراہیم اور حضرت یعقوب علیہما السلام،دونوں نے اپنے بیٹوں کو بوقتِ موت وصیت فرمائی۔اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ﴿وَ وَصّٰی بِہَآ إِبْرٰہٖمُ بَنِیْہِ وَ یَعْقُوْبُ﴾ [اور ابراہیم اور یعقوب علیہما السلام نے اسی(بات)کی وصیت اپنے بیٹوں کو کی] اور وصیت …جیسا کہ علامہ رازی نے بیان کیا ہے…[2] موت کے خوف کے وقت ہوتی ہے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کے متعلق تو مذکورہ بالا دوسری آیت میں ہے: ﴿أَمْ کُنْتُمْ شُہَدَآئَ إِذْ حَضَرَ یَعْقُوْبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِیْہِ …﴾ [1] یعنی اللہ تعالیٰ کے لیے مطیع و فرمانبردار بننے کی۔ [2] ملاحظہ ہو:التفسیر الکبیر ۴/۷۳۔