کتاب: دعوت دین کس وقت دی جائے - صفحہ 151
اللّٰہُ لَکُمُ الدُّنْیَا وَ الْآخِرَۃَ،وَ لَا یُقَرِّبُ ذٰلِکَ أَحَدًا إِلٰی أَجْلِہٖ،وَ إِنْ تَفْشَلُوْا وَ تَہِنُوْا وَ تَضْعَفُوْا تَذْہَبْ رِیْحُکُمْ،وَ تُوْبِقُوْا آخِرَتَکُمْ۔‘‘ [’’بے شک اللہ تعالیٰ ہی(معبودِ)برحق ہیں۔ساری / ہر قسم کی بادشاہت میں اُن کا کوئی شریک نہیں اور اُن کے فرمان میں وعدہ خلافی نہیں۔اللہ جل ثناؤہ نے فرمایا: [ترجمہ:’’اور بلاشبہ یقینا ہم زبور میں نصیحت کے بعد لکھ چکے ہیں،کہ بے شک اس زمین کے وارث میرے صالح بندے ہوں گے۔‘‘] یقینا یہ تمہارا ورثہ اور تمہارے رب کا وعدہ ہے اور انہوں نے بلا ریب اسے تین سالوں سے تمہارے لیے مباح فرما رکھا ہوا ہے،سو تم اُس سے ہی کھا پی رہے ہو اور اس کے باشندوں / لوگوں کو قتل کر رہے ہو،ان سے مال و دولت حاصل کر رہے ہو اور تم میں سے اُن پر غالب آنے والوں کی وجہ سے آج دن تک اُن میں سے غلام بنا رہے ہو۔(اب)تمہارے پاس اُن میں سے یہ بہت بڑی تعداد پہنچی ہے۔تم لوگ عرب کی قیادت اور اُن کے سردار،ہر قبیلے کے منتخب کردہ لوگ اور اپنے پیچھے رہنے والوں کے لیے باعث عزت ہو۔ اگر تم نے دنیا میں بے رغبتی اور آخرت میں رغبت کی،تو اللہ تعالیٰ تمہارے لیے دنیا و آخرت جمع فرما دیں گے اور ایسا کرنا تم میں کسی کو موت کے مقررہ وقت سے قریب نہیں کرے گا۔اگر تم پھسل گئے،سست ہو گئے اور کمزور ہو گئے،تو تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور تم اپنی آخرت تباہ کر لو گے۔‘‘] دونوں واقعات سے دس دیگر فوائد: ۱۔ میدانِ جنگ میں دعوت