کتاب: دعوت دین کس وقت دی جائے - صفحہ 144
اور انہوں نے اچھے اعمال کیے]۔(آخر آیت تک)۔ اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائیں،پس تم اپنے رب سے اس بات کی حیا کرو،کہ وہ تمہیں دشمن سے فرار ہوتے دیکھیں اور تم تو،اُن کے قبضے میں ہو اور تمہارے لیے اُن کے سوا نہ تو کوئی جائے پناہ ہے اور نہ ہی اُن کے علاوہ کسی اور کے ساتھ عزت ہے۔‘‘] آٹھ دیگر فوائد: ۱۔ مخاطب لوگوں کو خیر کے لیے ابھارنے اور ناپسندیدہ بات سے دُور کرنے کی خاطر اچھے اچھے القاب سے پکارنا[1] ۲۔ رحمتِ الٰہی اور جنت کا آرزوؤں سے حاصل نہ ہونا ۳۔ مغفرت و رحمت کے حصول کے لیے قول و عمل کی سچائی کا ضروری ہونا ۴۔ وعظ و نصیحت کے دوران چکنی چپڑی گفتگو کی بجائے لگی لپٹی کے بغیر صریح اور دو ٹوک انداز میں سننِ الٰہی/ ربِّ قدیر کے طریقوں کو بیان کرنا ۵۔ وعظ و نصیحت میں قرآن کریم سے استشہاد و استدلال ۶۔ دورانِ نصیحت مخاطب لوگوں کے لیے اچھی اچھی دعائیں کرنا ۷۔ تنبیہ و تذکر رب ذوالجلال کے جلال و جبروت اور اختیارات کے عقیدے کو سامعین کے دلوں اور دماغوں میں راسخ اور بڑھانے کی کوشش کرنا ۸۔ اہل خیر کو تنبیہ و تحدید کے لیے وعظ و نصیحت کرنا iii:عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کا دعوت دینا: حضرت عمر بن العاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’یَا أَیُّہَا الْمُسْلِمُوْنَ! غُضُّوْا الْأَبْصَارَ،وَ اجْثُوْا عَلَی الرُّکَبِ،وَ أَشْرِحُوْا الرِّمَاحَ،فَإِذَا حَمَلُوْا عَلَیْکُمْ [1] تفصیل کے ملاحظہ ہو:’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت معلم‘‘ ص ……۔