کتاب: دعوت دین کس وقت دی جائے - صفحہ 113
معاذ رضی اللہ عنہ کا رومیوں کو دعوت اسلام دینا: علامہ ازدی نے ذکر کیا،کہ معرکۂ فحل[1] سے پہلے رومیوں نے ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا،کہ وہ اُن کی جانب اپنے صالح ساتھیوں میں سے ایک شخص ارسال کریں،تاکہ وہ اُس کے ساتھ گفتگو کر سکیں۔انہوں نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو اُن کی طرف بھیجا۔ وہ ایک گھوڑے پر سوار ہو کر اُن کی جانب آئے،تو وہ لوگ قالینوں،غالیچوں اور تکیوں پر تھے۔پس جب وہ ان چیزوں کے قریب پہنچے،تو وہ کھڑے ہو کر رک گئے۔ اُن سے ایک(رومی)شخص نے کہا: ’’أَعْطِنِيْ دَابَّتَکَ،أَمْسِکُہَا لَکَ،وَ ادْنُ أَنْتَ،فَاجْلِسْ مَعَ ہٰؤُلَآئِ الْمُلُوْکَ فِيْ مَجَالِسِہِمْ،فَہُمْ یَکْرَہُوْنَ أَنْ یُکَلِّمُوْکَ جُلُوْسًا،وَ أَنْتَ قَآئِمٌ،فَاجْلِسْ مَعَہُمْ۔‘‘ [’’مجھے اپنی سواری دیجیے،میں آپ کی بجائے اُسے تھام لیتا ہوں۔آپ قریب ہو کر،اُن بادشاہوں کی مجلس میں اُن کے ساتھ بیٹھ جائیے،کیونکہ وہ اس بات کو ناپسند کرتے ہیں،کہ آپ کھڑے ہوں اور وہ بیٹھ کر آپ سے گفتگو کریں۔سو آپ بھی اُن کے ساتھ بیٹھ جائیے۔‘‘] معاذ رضی اللہ عنہ نے ترجمان سے کہا: ’’إِنَّ نَبِیَّنَا صلى اللّٰه عليه وسلم أَمَرَنَا أَنْ لَّا نَقُوْمَ لِأَحَدٍ مِنْ خَلْقِ اللّٰہِ،وَ لَا یَکُوْنَ قِیَامُنَا إِلَّا لِلّٰہِ فِيْ الصَّلَاۃِ وَ الْعِبَادَۃِ وَ الرَّغْبَۃِ إِلَیْہِ۔وَ لَیْسَ قِیَامِيْ ہٰذَا لَکُمْ،وَ لٰکِنِّيْ قُمْتُ إِعْظَامًا لِلْمَشْيِ عَلٰی ہٰذَا الْبَسْطِ،وَ الْجُلُوْسُ عَلٰی ہٰذِہِ النَّمَارِقِ الَّتِيْ اسْتَأْثَرْتُمْ [1] (معرکۂ فحل):رومیوں سے یہ معرکہ ذی القعدۃ ۱۳ھ میں ہوا۔اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کو شکست دی اور اس میں ان کی ایک بڑی تعداد قتل ہوئی۔یہ بھی کہا گیا ہے،کہ یہ معرکہ ذی القعدہ ۱۴ھ میں ہوا۔(ملاحظہ ہو:تاریخ خلیفہ بن خیاط ص ۱۲۰ و ص ۱۲۶)۔