کتاب: دعوت دین کس وقت دی جائے - صفحہ 100
تو اسے اپنے نفس کے متعلق خصوصی طور پر اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے اور اپنے ہمراہ جانے والے مسلمانوں کے ساتھ بھلائی کرنے کی تلقین فرماتے۔‘‘] اور فرماتے: ’’إِذَا لَقِیْتَ عَدُوَّکَ فَادْعُہُمْ إِلٰی ثَلَاثِ خِصَالٍ-أَوْ-خِلَالٍ۔[1] فَأَیَّتَہَا [فَأَیَّتَہُنَّ] [2] أَجَابُوْکَ إِلَیْہَا فَاقْبَلْ مِنْہُمْ،وَ کُفَّ عَنْہُمْ۔ أُدْعُہُمْ إِلَی الْإِسْلَامِ۔فَإِنْ أَجَابُوْا فَاقْبَلْ مِنْہُمْ،وَ کُفَّ عَنْہُمْ۔‘‘ الحدیث۔[3] [’’جب تمہارا دشمن سے آمنا سامنا ہو،تو انہیں تین میں سے ایک خصلت(کے قبول کرنے)کی دعوت دو۔پس وہ ان(تین)میں سے جسے بھی قبول کر لیں،تو تم(بھی)ان سے(اسے)قبول کر لینا اور اُن سے(کسی نئی بات کی جانب سے)باز رہنا: انہیں(سب سے پہلے)اسلام(قبول کرنے)کی دعوت دینا۔پس اگر وہ(اسے)قبول کر لیں،تو تم بھی اُن سے(اس بات کو)قبول کرنا اور اُن(کے حوالے)سے(کوئی اور کارروائی کرنے)سے باز رہنا۔‘‘] اس حدیث میں یہ بات واضح ہے،کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوجی دستوں اور لشکروں [1] (خِصَالٍ أَوْ خِلَالٍ):حدیث کے ایک راوی کو شک ہے،کہ انہوں نے دونوں میں سے کون سا لفظ سُنا۔شدید احتیاط اور امانت کے پیشِ نظر صورتِ حال واضح کر دی۔رَحِمَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی،البتہ دونوں کا معنی ایک ہی ہے۔(ملاحظہ ہو:المفہم ۳/۵۱۲-۵۱۳)۔ [2] [فأیتہا][فأیتہن]:سنن أبي داود کے دو نسخوں میں سے ایک میں پہلا لفظ اور دوسرے میں دوسرا لفظ ہے۔(ملاحظہ ہو:عون المعبود ۷/۱۹۴)۔البتہ دونوں کا معنی ایک ہی ہے۔ [3] صحیح مسلم،کتاب الجہاد و السیر،باب تأمیر الإمام الأمراء علی البعوث،و وصیتہ إیاہم بآداب الغزو وغیرہا،جزء من رقم الحدیث ۲-(۱۷۳۱)،۳/۱۳۵۶-۱۳۵۷؛ و سنن أبي داود،کتاب الجہاد،جزء من رقم الحدیث ۲۶۰۹،۷/۹۴۔الفاظِ حدیث سنن ابی داود کے ہیں۔شیخ البانی نے اُسے[صحیح]قرار دیا ہے۔(ملاحظہ ہو:صحیح سنن أبي داود ۲/۴۹۵)۔