کتاب: دعوت دین کون دے؟ - صفحہ 82
جب جبرئیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ’’یَا جِبْرِیْلُ! أَيُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ؟‘‘ ’’اے جبریل! بد ترین شہر کون سا ہے؟‘‘ انہوں نے کہا: ’’لَا أَدْرِيْ حَتَّی أَسْأَلَ رَبِّيْ عَزَّوَجَلَّ۔‘‘ ’’مجھے علم نہیں ، یہاں تک کہ میں اپنے رب عزوجل سے دریافت کر لوں ۔‘‘ راوی نے بیان کیا:’’جبریل علیہ السلام چلے گئے اور جتنا عرصہ اللہ تعالیٰ نے چاہا، وہ نہ آئے، پھر تشریف لائے اور کہا: ’’یَا مُحَمَّدُ صلي اللّٰه عليه وسلم إِنَّکَ سَأَلْتَنِيْ أَیُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ ، فَقُلْتُ: ’’لَا أَدْرِيْ‘‘ ، وَإِنِّيْ سَأَلْتُ رَبِّيْ عَزَّوَجَلُّ:’’أَيُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ؟ فَقَالَ: ’’أَسْوَاقُھَا۔‘‘ ’’اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے بد ترین شہر کے متعلق مجھ سے استفسار کیا ، تو میں نے کہا: ’’میں نہیں جانتا۔‘‘ اور میں نے اپنے رب عزوجل سے پوچھا:’’بد ترین شہر کون سا ہے؟ ‘‘ تو انہوں نے فرمایا: ’’ان [شہروں ] کے بازار ہیں ۔‘‘ [1]
[1] مجمع الزو ائد ومنبع الفوائد، کتاب البیوع، باب ما جاء في الأسواق ، ۴؍۷۶۔ حافظ ہیثمی اس حدیث کے متعلق تحریر کرتے ہیں :’’احمد، ابو یعلیٰ اور طبرانی نے[المعجم] الکبیر میں اسی طرح اس کو روایت کیا ہے۔‘‘ (المرجع السابق ۴؍۷۶)۔ ؛ پھر انہوں نے البزار کی روایت نقل کرنے کے بعد لکھا ہے: ’’احمد ، ابو یعلیٰ اور البزار کے [راویان صحیح کے روایت کرنے والے] ہیں ۔ سوائے عبداللہ بن محمد بن عقیل کے ، اور وہ[ حسن الحدیث] ہیں ، اور ان کے بارے میں کلام کی گئی ہے۔‘‘ (المرجع السابق ۴؍۷۶)۔ نیز ملاحظہ ہو: المستدرک علی الصحیحین ، کتاب العلم، ۱؍۸۹۔۹۰؛ والإحسان في تقریب صحیح ابن حبان، باب المساجد، ذکر البیان بأنَّ خیر البقاع في الدنیا المساجد، رقم الحدیث ۱۵۸۹۹، ۴؍۴۷۶؛ وفتح الباري ۱۳؍۲۹۰۔ نوٹ: اس سلسلے میں مزید مثالوں کے لیے راقم السطور کی کتاب [نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت معلم] ص۲۸۱۔۲۸۸ دیکھیے۔