کتاب: دعوت دین کون دے؟ - صفحہ 67
[میں اپنی قوم کی طرف جارہا ہوں ، اگر انہوں نے میری بات مان لی ، تو میں انہیں لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوجاؤں گا ، وگرنہ میں آپ کے حضور پہنچ کر آپ کا ساتھی بن جاؤں گا۔] [1] اس واقعہ میں ہم دیکھتے ہیں ، کہ بدو نے حبیب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ دیکھتے ہی اقرارِ حق کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رو برو اس عزم کا اظہار کیا ، کہ وہ اپنی قوم کو دعوتِ اسلام دینے، اور انہیں بارگاہِ نبوت میں حاضری کا حکم دینے کے لیے جارہے ہیں ۔ رضي اللّٰہ عنہ وأرضاہ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس بات سے منع نہیں کیا ، بلکہ اپنی خاموشی کے ذریعہ سے اپنی رضا مندی کا اظہار فرمایا۔ ایک مستشرق کی گواہی: دورِ اوّل کے مسلمانوں کے بارے میں بعض مستشرقین نے بھی یہ گواہی دی ہے ، کہ وہ مسلمان ہوتے ہی دین اسلام کی دعوت دینا شروع کر دیتے تھے۔ اس بارے میں پروفیسر ٹی ۔ ڈبلیو آرنلڈ لکھتے ہیں : ’’بسا اوقات ایساہو ا، کہ کسی قبیلے کا ایک آدمی
[1] سنن الدارمي، باب ما أکرم اللّٰه تعالیٰ بہ نبیہ صلي اللّٰه عليه وسلم من إیمان الشجر بہ والبھائم والجن، رقم الحدیث ۱۶، ۱؍۱۷۔۱۸؛ ومسند أبی یعلیٰ ، مسند ابن عمر رضی اللّٰه عنہما ، رقم الحدیث ۲۴۸(۵۶۶۲) ۱۰؍۳۴؛ والإحسان في تقریب صحیح ابن حبان، کتاب التاریخ ، باب المعجزات ، باب ذکر شہادۃ الشجر للمصطفی صلي اللّٰه عليه وسلم بالرسالۃ، رقم الحدیث ۶۵۰۵، ۱۴؍۴۳۴۔ الفاظِ حدیث مسند أبی یعلیٰ کے ہیں ۔ حافظ ہیثمی نے اس کے [راویان کو الصحیح کے روایت کرنے والے] کہا ہے۔ (ملاحظہ ہو: مجمع الزوائد ۸؍۲۹۲) ؛ حافظ ابن کثیر نے امام حاکم سے اس کو نقل کرنے کے بعد اس کی [اسناد کو عمدہ] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: البدایۃ والنہایۃ ۸؍۶۷۸) ؛ شیخ البانی نے امام ابن حبان کی روایت کو [صحیح] کہا ہے۔ (ملاحظہ ہو: صحیح موارد الظمآن ۲؍۳۱۳) ؛ نیز ملاحظہ ہو: ھامش سنن الدارمي ۱؍۱۷؛ وھامش مسند أبی یعلی ۱۰؍۳۴۔۳۵؛ وھامش الإحسان في تقریب صحیح ابن حبان ۱۴؍ ۴۳۴۔ ۴۳۵)۔