کتاب: دعوت دین کون دے؟ - صفحہ 55
چنانچہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو قبول کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا:
’’إِنَّا قَدْ تَرَکْنَا قَوْمَنَا ، وَلَا قَوْم بَیْنَھُمْ مِنَ الْعَدَاوَۃِ والشَّرِّ مَا بَیْنَھُمْ فَعَسَی اللّٰہُ أَنْ یَجْمَعَھُمْ بِکَ ، فَسَنَقْدِمُ عَلَیْھِمْ ، فَنَدْعُوْھُمْ إِلیٰ أَمْرِکَ ، نَعْرِضُ عَلَیْھِمْ الَّذِيْ أَجَبْنَاکَ إلیہ مِنْ ھٰذَا الدِّیْنِ۔ فَإِنْ یَجْمَعْھُمْ عَلَیْکَ فَلَا رَجُلٌ أَعَزَّمِنْکَ۔‘‘[1]
[ہم ایک ایسی قوم سے آئے ہیں ، کہ کسی بھی قوم میں باہمی دشمنی اورشرارت ان سے زیادہ نہیں ۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ آپ کی وجہ سے انہیں متحد کردیں ۔ ہم ان کے پاس جاتے ہیں اور انہیں آپ کی دعوت کی طرف بلاتے ہیں ۔ آپ کے بیان کردہ جس دین کو ہم نے قبول کیا ہے، یہی دین ہم انہیں پیش کریں گے۔ اگر وہ اس دین کی بنیاد پر اکٹھے ہو گئے، تو آپ سے زیادہ کوئی شخص معزز نہ ہو گا۔]
پھر جب وہ لوگ اپنی قوم کے پاس پہنچے ، تو انہوں نے ان کے سامنے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا اور انہیں دعوتِ اسلام دی، یہاں تک کہ ان میں اسلام پھیل گیا
[1] ملاحظہ ہو: السیرۃ النبویۃ لابن ہشام ۲؍۵۴۔۵۵۔ شیخ البانی ، ڈاکٹر سلیمان العودۃ اور۔ ڈاکٹر العودۃ حسن نے اس کی [اسناد کو حسن] قرار دیا ہے اور ڈاکٹر مہدی رزق اللہ نے ان سے موافقت کی ہے۔ (ملاحظہ ہو: تعلیقات الشیخ الألباني علی فقہ السیرۃ للشیخ الغزالي ص ۱۵۴ ؛ والسیرۃ النبویۃ فی الصحیحین و عند ابن اسحاق ص۳۱۲؛ والسیرۃ النبویۃ في وضوء المصادر الأصلیۃ ص ۲۴۵، ھامش ۶۶۹)۔ نیز ملاحظہ ہو: جوامع السیرۃ ص ۷۰ ؛ وتاریخ الإسلام (السیرۃ النبویۃ) للحافظ الذھبي ص ۲۹۰۔۲۹۱ ؛ وزاد المعاد ۳؍۴۵؛ والبدایۃ والنھایۃ ۴؍۲۷۱۔۲۷۴؛ والفصول في سیرۃ الرسول صلي اللّٰه عليه وسلم ص ۱۰۹؛ والسیرۃ النبویۃ لابن خلدون ص ۱۰۱؛ والسیرۃ النبویۃ کما جاء في الأحادیث الصحیحۃ لمحمد الصویانی ص ۲۳۳۔۲۳۴؛ وصحیح السیرۃ النبویۃ لإبراہیم العلي ص ۱۰۴۔۱۰۵؛ اور دعوتِ اسلام تالیف پروفیسر آرنلڈ ص۲۴۔۲۵۔