کتاب: دعوت دین کون دے؟ - صفحہ 43
دینے کی پرزور ترغیب دی ہے۔ توفیقِ الٰہی سے اس سلسلے میں ذیل میں دو حدیثیں پیش کی جارہی ہیں :
ا: حضرات ائمہ احمد، مسلم، ابوداود، ترمذی اور ابن ماجہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’مَنْ دَعَا إِلَی ہُدًی کَانَ لَہٗ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ تَبِعَہٗ لَا یَنْقُصُ ذٰلِکَ مِنْ أُجُورِہِمْ شَیْئًا۔‘‘ [1]
[جس نے ہدایت [کی کسی بات] کی طرف بلایا، تو اس کے لیے اتنا ہی اجر ہے ، جتنا اس کی پیروی کرنے والوں کے لیے اجر ہوتا ہے، اس کو [اجر ملنے] کی وجہ سے ان [عمل کرنے والوں ] کے ثو اب میں کچھ کمی واقع نہیں ہوتی۔]
ب: حضرات ائمہ احمد،مسلم، ابو داود اور ترمذی نے حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’ مَنْ دَلَّ عَلَی خَیْرٍ فَلَہُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِہِ۔‘‘ [2]
[1] المسند ۲؍۳۹۷ (ط: المکتب الاسلامي)؛ وصحیح مسلم، کتاب العلم، باب من سنَّ سنۃ حسنۃ أوسیئۃ ، ومن دعا الی ھدیً أو ضلالۃ، جزء من رقم الحدیث ۱۶(۲۶۷۴)؛ ۴؍۲۰۶۰؛ وسنن أبی داود ، کتاب السنۃ، باب من دعا الی السنۃ، رقم الحدیث ۴۵۹۶، ۱۲؍۲۳۶؛ وجامع الترمذي ، أبواب العلم، باب فی من دعا الی ھدی فأتبع أو إلی ضلالۃ، رقم الحدیث ۲۸۱۳، ۷؍۳۴۶، وسنن ابن ماجہ، المقدمہ، من سنّ سنۃ حسنۃ أو سیئۃ ، رقم الحدیث ۱۹۴، ۱؍۴۰۔ الفاظِ حدیث المسند، صحیح مسلم، اور سنن ابی داود کے ہیں ۔
[2] المسند ۴؍۱۲۰، و ۵؍۲۷۲ (ط: المکتب الاسلامي) ، وصحیح مسلم، کتاب الامارۃ، باب فضل إعانۃ الغازي في سبیل اللّٰه لمرکوب وغیرہ، جزء من رقم الحدیث ۱۳۳ (۱۸۹۳) ، ۳؍۱۵۰۶؛ وسنن أبی داؤد، کتاب الأدب، باب فی الدال علی الخیر، جزء من رقم الحدیث ۵۱۱۸،۱۴؍۲۶؛ وجامع الترمذي ، أبواب العلم، باب ما جاء أنّ الدال علی الخیر کفاعلیہ، جزء من رقم الحدیث ۲۸۰۸، ۷؍۳۶۱۔ الفاظِ حدیث المسند اور صحیح مسلم کے ہیں ۔