کتاب: دعوت دین کون دے؟ - صفحہ 40
[اللہ تعالیٰ اس بندے کو ترو تازہ رکھیں ، جس نے ہماری کسی ایک حدیث کو سن کر یاد کیا ، یہاں تک کہ اس کو کسی اور شخص تک پہنچا دیا۔ کتنے ہی حاملینِ فقہ اس شخص تک [دین کی بات] پہنچاتے ہیں ، جو ان سے بڑا فقیہ ہوتا ہے ، اور کتنے ہی حاملینِ فقہ [ خود] فقیہ نہیں ہوتے۔]
ب: امام ترمذی اور امام ابن حبان نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے ، کہ انہوں نے بیان کیا ، کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
’’نَضَّرَ اللّٰہُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا شَیْئًا فَبَلَّغَہُ کَمَا سَمِعَہُ ، فَرُبَّ مُبَلَّغٍ أَوعَی مِنْ سَامِعٍ۔‘‘ [1]
[اللہ تعالیٰ اس بندے کو ترو تازہ رکھیں ، جس نے ہم سے کوئی چیز سنی ، پھر اس کوجیسے سنا ، ویسے ہی پہنچا دیا، کتنے ہی لوگ جن تک حدیث پہنچائی جاتی ہے ، سننے والوں سے زیادہ سمجھ دار ہوتے ہیں ۔ ]
[1] جامع الترمذي، أبواب العلم، باب فی الحث علی تبلیغ السماع، رقم الحدیث ۲۷۹۵، ۷؍۳۴۸؛ والإحسان في تقریب صحیح ابن حبان، کتاب العلم، رقم الحدیث ۶۹، ۱؍۲۷۱۔۲۷۲۔ الفاظِ حدیث جامع الترمذي کے ہیں ۔ امام ترمذی نے اس کو [ حسن صحیح] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: جامع الترمذي ۷؍۳۴۹)۔ علامہ مبارکپوری نے اس کے متعلق تحریر کیا ہے: اس کو احمد، ابن ماجہ اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: تحفۃ الأحوذي ۷؍۳۴۹) ؛ علامہ مناوی اور شیخ البانی نے اس کو [صحیح] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: فیض القدیر ۶؍۲۸۴؛ وصحیح سنن الترمذي ۲؍۳۳۸)۔