کتاب: دعوت دین کون دے؟ - صفحہ 39
مبحث دوئم
دعوتِ دین دینے کی ہر مسلمان کو ترغیب
قرآن و سنت کی متعدد نصوص میں ہر مسلمان کو دین کی دعوت دینے کی ترغیب دی گئی ہے ، توفیق الٰہی سے دو عنوانوں کے تحت چند نصوص کے حوالے سے ذیل میں گفتگو کی جارہی ہے:
۱۔ ایک حدیث پہنچانے والے کے لیے دعائے مصطفوی صلی اللہ علیہ وسلم :
ایک حدیث شریف سن کر دوسرے تک پہنچانے والے شخص کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شاداں و فرحاں ہونے اور رحمت الٰہی پانے کی دعا کر کے ہر مسلمان کو اس کارِ خیر میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ اسی سلسلے میں دو احادیث شریفہ درج ذیل ہیں :
ا۔ امام ترمذی اور امام ابن حبان نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا: ’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
’’نَضَّرَ اللّٰہُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِیثًا فَحَفِظَہُ حَتَّی یُبَلِّغَہُ غَیْرَہُ، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْہٍ إِلَی مَنْ ہُوَ أَفْقَہُ مِنْہُ وَرُبَّ حَامِلِ فِقْہٍ لَیْسَ بِفَقِیہٍ۔‘‘[1]
[1] جامع الترمذی ، أبواب العلم، باب فی الحث علی تبلیغ السماع، رقم الحدیث ۲۷۹۴، ۷؍۳۴۷۔ ۳۴۸۔والإحسان في تقریب صحیح ابن حبان ، کتاب العلم، ۱؍۲۷۰۔ الفاظ حدیث جامع الترمذی کے ہیں ۔ امام ترمذی نے اپنی روایت کردہ حدیث کو[حسن] قرار دیا ہے۔(جامع الترمذي ۷؍۳۴۸)۔ علامہ مبارکپوری نے اس کے متعلق لکھا ہے: ’’اس کو احمد، ابوداود، ابن ماجہ اور دارمی نے روایت کیا ہے، ابوداود نے اس پر سکوت اختیار کیا ہے، منذری نے ترمذی کی حدیث کو [حسن] قرار دینے کے ساتھ موافقت کی ہے۔ (ملاحظہ ہو: تحفۃ الأحوذي ۷؍۳۴۸) ؛ علامہ مناوی اور شیخ البانی نے اس کو [صحیح] کہا ہے۔ (ملاحظہ ہو: فیض القدر ۷۶؍۲۸۴؛ وصحیح سنن الترمذي ۲؍۳۳۸)۔ شیخ ارناؤوط نے امام ابن حبان کی روایت کردہ حدیث کی [اسناد کو صحیح]کہا ہے۔ (ملاحظہ ہو: ھامش الإحسان ۱؍۲۷۰)