کتاب: دعوت دین کون دے؟ - صفحہ 37
’’ وَعَلِّمُوْھُمْ وَمُرُوْھُمْ۔‘‘ [1] [انہیں تعلیم دو اور انہیں حکم دو۔] علامہ عینی شرح حدیث میں تحریر کرتے ہیں ، کہ انہیں احکامِ شریعت کی تعلیم دو اور واجبات کی ادائیگی اور محرمات سے دُور رہنے کا حکم دو۔ [2] اور یہ بات تو محتاجِ بیان نہیں ، کہ بیس دنوں میں کوئی شخص عالم و فاضل نہیں بن جاتا، اگرچہ عربی اس کی مادری زبان ہی کیوں نہ ہو۔لیکن پھر بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں احکامِ شریعت کی تعلیم دینے اور فرائض کے بجا لانے اور ممنوعات سے دُور رہنے کا حکم دینے کی تلقین فرمائی۔ خلاصۂ گفتگو یہ ہے ، کہ ہر مسلمان اس بات کا پابند ہے، کہ وہ دین کی بات ، اپنے علم کے بقدر دوسروں تک پہنچائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم 
[1] متفق علیہ: صحیح البخاري، کتاب أخبار الأحاد، باب ما جاء في إجازۃ خبر الواحد الصدوق في الأذان… ، جزء من رقم الحدیث ۷۲۴۶، ۱۳؍۲۳۱؛ وصحیح مسلم، کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ، باب من أحق بالإمامۃ ، جزء من رقم الحدیث ۲۹۲ (۶۷۴) ، ۱؍۴۶۶۔ [2] ملاحظہ ہو: عمدۃ القاري ۲۵؍۱۳۔