کتاب: دعوت دین کِسے دیں؟ - صفحہ 99
’’بھائیوں‘‘ سے مراد خود وہ قوم تو نہیں ہوسکتی، بلکہ کوئی دوسری ایسی قوم ہوسکتی ہے، جس کے ساتھ اس کا نسلی رشتہ ہو۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنو اسرائیل سے تھے۔ اگر مراد خود بنی اسرائیل سے کسی نبی کی آمد ہوتی، تو الفاظ یہ ہوتے، کہ ’’میں تمہارے لیے خود تم ہی میں سے ایک نبی برپا کروں گا۔‘‘ لہٰذا بنی اسرائیل کے بھائیوں سے مراد لامحالہ بنی اسماعیل ہی ہوسکتے ہیں، جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد ہونے کی بنا پر ان کے نسبی رشتہ دار ہیں۔ علاوہ ازیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل کے بہت سارے نبی آئے ہیں، جن کے ذکر سے بائیبل بھری پڑی ہے، البتہ بنواسماعیل سے صرف ایک ہی نبی تشریف لائے اور وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور وہ ہی اس پیش گوئی کے مصداق ہیں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اسرائیلی ہونے کی وجہ سے یہ پیش گوئی صادق نہیں آتی۔[1] ب: اس پیش گوئی میں یہ بات بیان کی گئی ہے، کہ تشریف لانے والے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مانند ہوں گے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مشابہت دونوں کے کاموں اور کارگزاریوں سے واضح ہوتی ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام صاحب شریعت تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی مستقل شریعت لے کر تشریف لائے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جہاد کئے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جہاد کئے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بتوں کو توڑا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بتوں کو توڑا، بلکہ بت پرستی کو معدوم کیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کوہِ طور پر معراج ہوا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ہوا، غرضیکہ اس قسم کی بہت سی باتیں دونوں میں مشترک ہیں۔ اسی لئے یہ پیش [1] ملاحظہ ہو: اظہار الحق ۲/۳۶۴۔۳۶۵!؛ و سیرۃ النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم ۳/۴۵۰۔۴۵۱؛ و یہودیت و نصرانیت تالیف مولانا سید ابوالأعلی مودودی ص ۴۵۲؛ نیز ملاحظہ ہو: تفسیر ثنائی (مطبوع مع قرآن حکیم) ص ۷۸۹۔