کتاب: دعوت دین کِسے دیں؟ - صفحہ 98
’’خداوند تیرا خدا تیرے لیے تیرے ہی درمیان سے یعنی تیرے ہی بھائیوں میں سے میری مانند ایک نبی برپا کرے گا۔ تم اس کی سننا۔ یہ تیری اس درخواست کے مطابق ہوگا، جو تو نے خداوند اپنے خدا سے مجمع کے دن حورب میں کی تھی، کہ مجھ کو نہ تو خداوند اپنے خدا کی آواز سننی پڑے اور نہ ہی ایسی بڑی آگ کا نظارہ ہو، تاکہ میں مر نہ جاؤں۔ اور خداوند نے مجھ سے کہا: ’’جو کچھ وہ کہتے ہیں، سو ٹھیک کہتے ہیں۔ میں ان کے لیے ان ہی کے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا۔ اور جو کچھ میں اسے حکم دوں گا، وہی وہ ان سے کہے گا۔ اور جو کوئی میری ان باتوں کو، جن کو وہ میرا نام لے کر کہے گا، نہ سنے، تو میں ان کا حساب اس سے لوں گا۔ لیکن جو نبی گستاخ بن کر کوئی ایسی بات میرے نام سے کہے، جس کے کہنے کا، میں نے اس کو حکم نہیں دیا یا اور معبودوں کے نام سے کچھ کہے، تو وہ نبی قتل کیا جائے۔‘‘[1] اس پیشین گوئی کے حوالے سے چھ باتیں: یہ تورات کی صریح پیش گوئی ہے، جو کہ بلاشک و شبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہے، اور ان کے سوا کسی اور پر چسپاں نہیں ہوتی۔ اس میں درج ذیل چھ باتیں اس حقیقت کی تائید کرتی ہیں: ا: اس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کا ارشاد سنا رہے ہیں، کہ: میں تیرے لیے تیرے ہی بھائیوں سے ایک نبی برپا کروں گا۔ ظاہر ہے، کہ ایک قوم کے [1] کتاب مقدس، استثناء، باب ۱۸، آیات ۱۵۔۱۹، ص ۱۸۴۔