کتاب: دعوت دین کِسے دیں؟ - صفحہ 94
الصَّلِیْبَ حَقِیْقَۃً، وَیُبْطِلَ مَا تَزْعَمُہُ النَّصَارَی مِنْ تَعْظِیْمِہِ۔‘‘[1] [’’یعنی وہ صلیب کو حقیقی طور پر توڑ کر نصرانی دین کو مٹا دیں گے اور نصاریٰ کے اس کی تعظیم کے عقیدہ کو ختم کردیں گے۔‘‘] ۳: حضرات ائمہ احمد، ابوداود، ابن حبان اور حاکم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اَلْأَنْبِیَائُ إِخْوَۃٌ لِعَلَّاتٍ: أُمَّہَاتُہُمْ شَتَّی وَدِیْنُہُمْ وَاحِدٌ۔ وَإِنِّيْ أَوْلَی النَّاسِ بِعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ علیہما السلام لِأَنَّہُ لَمْ یَکُنْ بَیْنِيْ وَبَیْنَہُ نَبِيٌّ، وَإِنَّہُ نَازِلٌ، فَإِذَا رَأَیْتُمُوْہُ فَاعْرِفُوْہُ: رَجُلٌ مَرْبُوْعٌ إِلَی الْحُمْرَۃِ وَالْبِیَاضِ، عَلَیْہِ ثُوْبَانِ مُمَصَّرَانِ، کَأَنَّ رَأْسَہُ یَقْطُرْ، وَإِنِْ لَمْ یُصِبْہُ بَلَلٌ، فَیَدُقُّ الصَّلِیْبَ، وَیَقْتُلُ الْخِنْزِیْرَ، وَیَضَعُ الجِزْیَۃَ، وَیَدْعُوْ النَّاسَ إِلَی الْإِسْلَامِ، فَیُہْلِکُ اللّٰہُ فِيْ زَمَانِہِ الْمِلَلَ کُلَّہَا إِلَّا الْإِسْلَامَ…الحدیث[2] [’’انبیاء علاتی بھائی ہوتے ہیں: ان کی مائیں جدا جدا ہیں اور ان کا دین [1] فتح الباري ۶/۴۹۱۔ [2] المسند، جزء من رقم الحدیث ۹۲۷۰ ، ۱۵/۱۵۳۔۱۵۴؛ وسنن ابي داود، کتاب الملاحم، باب خروج الدجال، جزء من رقم الحدیث ۴۳۱۴، ۱۱/۳۰۴۔۳۰۶؛ والإحسان في تقریب صحیح ابن حبان، باب إخبارہ صلی اللّٰه علیہ وسلم عما یکون في امتہ من الفتن والحوادث، جزء من رقم الحیث ۶۸۲۱، ۱۵/۲۳۳۔۲۳۴؛ والمستدرک علی الصحیحین، کتاب التاریخ، ۲/۵۹۵۔ امام حاکم نے اس کی [سند کو صحیح] کہا ہے؛ حافظ ذہبی نے ان کے ساتھ موافقت کی ہے اورحافظ ابن حجر نے بھی اس کی [سند کو صحیح] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: المستدرک ۲/۵۹۵؛ والتلخیص ۲/۵۹۵؛ وفتح الباري ۶/۴۹۳)۔