کتاب: دعوت دین کِسے دیں؟ - صفحہ 90
وَلَقَدْ أَصَابَ مَنْ کَانَ مِنْہُمْ کَافِرًا اَلذُّلَّ وَالصَّغَارَ وَالْجِزْیَۃَ۔‘‘[1] [’’بے شک میں نے (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی) اس (پیش گوئی) کو اپنے کنبہ میں (پورے ہوتے) دیکھا۔ بلاشبہ ان میں سے دائرہ اسلام میں داخل ہونے والے نے خیر، احترام اور عزت کو پایا اور یقینا ان میں سے کافر کو ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا اور جزیہ ادا کرنا پڑا۔‘‘] ۲: حضرت ائمہ احمد، ابن حبان، ابن مندہ، حاکم، بیہقی اور طبرانی نے حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’لَا یَبْقَی عَلٰی ظَہْرِ الْأَرْضِ بَیْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَہُ اللّٰہُ کَلِمَۃَ الْإِسْلَامِ ، بِعِزِّ عَزِیْزٍ أَوْ ذُلِّ ذَلِیْلٍ، إِمَّا یُعِزّھُمُ اللّٰہُ ، فَیَجْعَلُہُمْ مِنْ أَھْلِہَا أَوْ یُذِلُّہُمْ فَیَدِیْنُوْنَھَا۔‘‘[2] [1] المسند، جزء من رقم الروایۃ ۱۶۹۵۷، ۸/۱۵۴،۱۵۵؛ والمستدرک علی الصحیحین، کتاب الفتن والملاحم ، ۴/۴۳۰۔۴۳۱۔ [2] المسند، رقم الحدیث ۲۳۸۱۴، ۳۹/۲۳۶؛ والإحسان في تقریب صحیح ابن حبان، کتاب التاریخ، باب إخبارہ صلی اللّٰه علیہ وسلم عما یکون في أمتہ من الفتن والحوادث، ذکر البیان بأن المراد من ھٰذا الخبر إدخال اللّٰه کلمۃ الإسلام بیوت المدر والوبر لا الإسلام کلہ، رقم الحدیث ۶۷۰۱، ۱۵/۹۳۔۹۴؛ وکتاب الإیمان لابن مندہ، ذکر وجوب الإیمان بالقیامۃ، رقم الحدیث ۸۔ (۱۰۸۴)، ۳/۹۶۰۔۹۶۱؛ والمستدرک علی الصحیحین، کتاب الفتن والملاحم، ۴/۴۳۰؛ والسنن الکبری، کتاب السیر، باب إظہار دین النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم علی الأدیان، رقم الحدیث ۱۸۶۱۸، ۹/۳۰۵۔ الفاظِ حدیث المسند کے ہیں۔ امام حاکم نے اس کو صحیحین کی شرط پر [صحیح] کہا ہے؛ حافظ ذہبی نے ان کے ساتھ موافقت کی ہے؛ شیخ شعیب ارناؤوط اور ان کے رفقاء نے [المسند کی سند کو صحیح] اور ڈاکٹر فقیہی نے ابن مندہ کی [سند کوحسن] کہا ہے۔ (ملاحظہ ہو: المستدرک علی الصحیحین ۴/۴۳۰؛ والتلخیص ۴/۴۳۰؛ وھامش المسند ۳۹/۲۳۶؛ وھامش کتاب الإیمان ۳/۹۶۱)۔